زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 36
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 36 جلد دوم کوئی کہہ سکتا ہے کہ اگر محمد ﷺ اپنی تیرہ سالہ کی زندگی میں ہی فوت ہو جاتے اور آپ کا کوئی تعریف کرنے والا نہ ہوتا تو آپ نعوذ باللہ برے ٹھہرتے اور اگر ابو جہل زندہ رہتا اور اس کی تعریف کرنے والے باقی رہتے تو وہ معزز ہوتا ؟ محمد ہے اگر اس وقت بھی فوت ہو جاتے جب ساری دنیا آپ کی مذمت کرنے والی تھی تو بھی آپ سے زیادہ معزز اور کوئی نہ ہوتا۔اور اگر ابو جہل کی قیامت تک تعریف کرنے والے باقی رہتے تو بھی اس سے زیادہ ذلیل انسان اور کوئی نہ ہوتا۔پس اگر تبلیغ کی برکات سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو اپنے قلوب کی اصلاح کرو۔یہ مت خیال کرو کہ قلوب کی باتیں پوشیدہ رہتی ہیں۔یہ مت خیال کرو کہ دل کے خیالات چھپے رہتے ہیں بلکہ یاد رکھو کہ قلوب کی باتیں بھی ظاہر ہو جاتی ہیں اور کبھی تو اللہ تعالیٰ انہیں اس طرح ظاہر کر دیتا ہے کہ اسی کے منہ سے ایسے الفاظ نکلتے ہیں جو اس کی قلبی کیفیات کا آئینہ ہوتے ہیں اور کبھی اس کے اندر سے بار یک شعاعیں نکل کر دوسروں کے قلوب پر پڑتی ہیں۔اور وہ چیز جسے یہ خفی سمجھ رہا ہوتا ہے اس پر ظاہر ہو جاتی ہے کیونکہ خدا کے بندوں میں ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی نظر با وجود انسانی نظر ہونے کے لوگوں کے دلوں تک پہنچ جاتی ہے۔اور وہ چیز جو دنیا کے لئے پوشیدہ ہوتی ہے ان کے لئے ظاہر ہو جاتی ہے۔ہاں وہ اللہ تعالیٰ کی ستاری کی چادر اوڑھے ہوئے ہوتے ہیں اس لئے ان کے عیب کو چھپا لیتے ہیں۔وہ ایسا اس لئے نہیں کرتے کہ ان کے دل کا خیال ان پر ظاہر نہیں ہوتا بلکہ اس لئے کرتے ہیں کہ خدا نہیں چاہتا کہ اس کی ستاری کی چادر کو اٹھا دیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے جو لوگ میری مجلس میں آتے ہیں بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ان کے دل کی باتیں مجھ پر ظاہر کر دیتا ہے مگر ساتھ ہی منع کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ ان کو ظاہر مت کرو۔کیونکہ وہ ستار ہے اور نہیں چاہتا کہ کسی کا عیب عام انسانوں پر ظاہر ہو۔ہاں وہ اپنے بندوں میں سے بعض کو جنہیں چن لیتا ہے اور جن سے اس نے اصلاح خلق کا کام لیتا ہوتا ہے بعض دفعہ مطلع کر دیتا ہے تا وہ لوگوں کے قلوب کی