زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 35
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 35 جلد دوم عليسة ہوئی اور انسانی ثناء اور انسانی مذمت کی کیا حقیقت رہ گئی۔یہی چیز تھی جسے خدا تعالیٰ رسول کریم اور آپ کے ماننے والوں کے ذریعہ دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتا تھا اور لوگوں کو دکھانا چاہتا تھا کہ انسانی آنکھ اور انسانی زبان کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔بسا اوقات انسانی آنکھ ایک حسین کو بدشکل قرار دے دیتی ہے۔اور بسا اوقات ایک انسانی زبان اچھی چیز کو برا کہنے لگ جاتی ہے۔پھر بسا اوقات انسانی آنکھ ایک چیز کو اعلیٰ قرار دے دیتی اور انسانی زبان کسی چیز کی توصیف کرتی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں وہ چیز بری ہوتی ہے اور وہ تعریف نہیں بلکہ مذمت کے قابل ہوتی ہے۔لیکن یہ انسانی کمزوری ہے کہ بہت سے لوگ انسانی تعریف کو خدا کی تعریف سمجھ لیتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے تمام اعمال راکھ کی طرح اڑ جاتے ہیں اور ان کی تمام نیکیاں خاک کی طرح جو میں غائب ہو جاتی ہیں اور اس طرح غائب ہوتی ہیں کہ ان کا نشان تک باقی نہیں رہتا۔یا درکھو حقیقی حمد اور توصیف وہی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو۔کیونکہ دل کا نور ہی ہے جو انسانی قدر بڑھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی تعریف ہی ہے جو انسان کو اشرف مقام پر پہنچاتی ہے۔پس جہاں تبلیغ میں انسان کو نیکیوں کے حاصل کرنے اور اللہ تعالیٰ کے قرب میں بڑھنے کا موقع ملتا ہے وہاں ساتھ ہی ساتھ کبر اور معجب اور نفس کی بڑائی کا خیال بھی لگا رہتا ہے۔اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب انسان تلوار کی دھار پر کھڑا ہوتا ہے اور یہی وقت اس کے لئے پل صراط پر چلنے کا وقت ہوتا ہے۔اُس وقت اس کے اختیار میں ہوتا ہے کہ چاہے تو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر لے اور چاہے تو اس کی لعنت کا مستحق بن جائے۔پس یا درکھو کہ وہ چیز جو تمہاری زبانوں پر جاری ہوتی ہے اس سے تمہارا امتحان نہیں لیا جائے گا بلکہ وہ چیز جو تمہارے دل میں ہے اس سے تمہارا امتحان ہوگا۔پھر تمہاری اس سے قدر نہیں بڑھے گی جو تمہارے متعلق لوگ کہتے ہیں بلکہ اس سے بڑھے گی جو تمہارے متعلق خدا کہے۔اگر تم اپنی کوششوں سے، اگر تم اپنی محنتوں اور سعیوں سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر لیتے ہو تو چاہے ساری دنیا تمہاری مذمت کرتی رہے تمہیں کوئی پرواہ نہیں ہو سکتی۔کیا