زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 34

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 34 جلد دوم لگے۔وہی عقلیں ، وہی آنکھیں، وہی دماغ اور وہی کان تھے مگر ایک وقت آپ کو سخت بُرا سمجھتے ہیں اور دوسرے وقت نہایت اچھا۔پس انسانی تعریف اور مذمت کی کیا حقیقت ہوئی۔انہی لوگوں میں سے جنہوں نے ایک وقت رسول کریم ﷺ کی سخت مخالفت کی مگر دوسرے وقت آپ کے صحابہ میں شامل ہوئے ایک شخص عمرو بن العاص ہیں۔وہ جب وفات پانے لگے تو لکھا ہے بہت رو ر ہے تھے۔ان کے لڑکے نے انہیں روتا دیکھ کر پوچھا آپ کیوں روتے ہیں آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے بہت سی دینی خدمات کی توفیق بخشی۔انہوں نے کہا ایک وقت تھا جب ہم میں اللہ تعالیٰ کا رسول موجود تھا۔ہم نے اس کے ہاتھ پر توبہ کی اور اس کے ساتھ مل کر جہاد میں شامل ہوئے۔اگر اُس وقت میری جان نکل جاتی تو مجھے کوئی فکر نہ تھا۔اس کے بعد خدا کا رسول ہم میں سے اٹھا لیا گیا۔اس کے بعد نہ معلوم ہم سے کیا کیا قصور سرزد ہوئے اور کس قدر اعمال خیر میں کوتاہیاں ہوئیں۔اس لئے میں ڈرتا ہوں ان خطاؤں کی وجہ سے مجھ سے پرسش نہ ہو۔پھر کہنے لگے ایک زمانہ تھا کہ دنیا کے پردہ پر مجھے محمد سے زیادہ عیب دار شخص اور کوئی نظر نہ آتا تھا۔جس مکان میں آپ ہوتے اس مکان کی چھت کے نیچے میں ٹھہر نا گوارا نہ کر سکتا اور دنیا کی ہر بدی میں آپ کے وجود میں سمجھتا۔یہاں تک کہ اس نفرت اور حقارت کی وجہ سے میری یہ حالت تھی کہ میں نے آنکھ اٹھا کر کبھی آپ کا چہرہ نہ دیکھا کیونکہ میں پسند نہ کرتا تھا کہ آپ کا چہرہ دیکھوں۔اس کے بعد ایک وہ زمانہ آیا جب اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت دی اور میں اسلام میں داخل ہو گیا۔اُس وقت میری یہ حالت تھی کہ دنیا کا کوئی حسن نہ تھا جو میں آپ میں نہ سمجھتا۔یہاں تک کہ اس محبت اور رعب حسن کی وجہ سے میں نے اُس وقت بھی رسول کریم ﷺ کا چہرہ آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا۔2 دیکھو یہ ایک شخص کا اپنا تجربہ ہے بعد میں اس کا دماغ نہیں بدلا، نہ اس کی آنکھیں صلى الله اور کان بدلے۔مگر ایک زمانہ میں محمد ﷺ کو وہ نعوذ باللہ بدترین خلائق سمجھتا ہے اور دوسرے وقت تمام مخلوق میں سے آپ کو بہترین وجود یقین کرتا ہے تو انسانی تعریف کیا