زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 369
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 369 جلد دوم میں جاری رکھو اور اس بات کا عزم کرو کہ تمہارے خاندانوں میں یہ تحریک چلتی چلی جائے گی اور ہر نسل میں ہر خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد خدمت دین کے لئے ضرور آگے آتا رہے گا۔اس طرح تم میں سے ہر شخص ایک امت کی شکل اختیار کر لے گا اور اس کا نام چلتا چلا جائے گا۔کیونکہ امت کی عمر کو دائمی قسم کی زندگی کہتے ہیں۔پس یہ عہد کر لو کہ تم اپنے اندر ہی نہیں بلکہ اپنی کی نسلوں میں بھی اس روح کو زندہ رکھو گے۔اللہ تعالیٰ نے جہاں حضرت ابراہیم کو ان کی قربانی کی وجہ سے امت قرار دیا ہے وہاں ساتھ ہی ہم کو ان کی پیروی کرتے ہوئے اسی اسوہ پر عمل کرنے کی تلقین کی ہے۔جیسا کہ فرمایا اتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَهِمَ مُصَلَّى - 2 روحانی نو آبادیاں تقریر کے آخر میں حضور نے فرمایا۔اسی طرح جہاں تم خود اپنے وطنوں کو خیر باد کہو وہاں باہر جا کر روحانی نو آبادی قائم کرنے کے اشتیاق کا پورا پورا مظاہرہ کرو۔جہاں تمہارا اپنا وجود ایک امت کی طرح ہو وہاں تم ایک دو کو نہیں بلکہ امت کی امت کو اسلام اور محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی میں داخل کرو۔باہر جا کر ایک یا دو کو احمدی بنانا کافی نہیں ہے بلکہ چاہئے کہ کروڑوں کروڑ انسان اور ملک کے ملک تمہارے ذریعہ قبول حق کی سعادت حاصل کریں۔حضور نے فرمایا۔پس تم میں سے ہر شخص کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ وہ ایک امت بن جائے۔وہ خود بھی خدمت دین کی روح کو زندہ رکھے اور اپنی نسلوں کو بھی اس کے لئے تیار کرے تادین کے ایسے خادموں کی ایک امت کے بعد دوسری امت پیدا ہوتی چلی جائے یہاں تک کہ وہ زمانہ آ جائے کہ دنیا میں ہر طرف اسلام ہی اسلام ہو۔اگر اس عزم کے ساتھ تم دین کی خدمت کرو گے اور کرتے چلے جاؤ گے تو خدا یقیناً تمہاری مدد کرے گا اور کامیابی ضرور تمہارے قدم (الفضل 17 جنوری 1956ء) چومے گی۔“ 1: النحل : 121 2: البقرة: 126