زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 358
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 358 جلد دوم پاس بعض علماء آئے اور انہوں نے کہا حضور! ہمارے ہزار دو ہزار یا پانچ دس ہزار آدمی ہیں۔لیکن آپ فرماتے یہ سب غلط ہے۔جب تم احمدیت کو قبول کر لو گے تو بالکل اکیلے رہ جاؤ گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوتا۔ساری جماعت میں صرف چند مثالیں ایسی ملتی ہیں کہ بعض لوگوں کے ساتھ چند اور لوگ بھی احمدیت میں داخل ہو گئے۔مثلاً حضرت خلیفہ امسیح الاول نے جب بیعت کی تو آپ کی وجہ سے میں پینتیس اور دوست بھی جماعت میں داخل ہو گئے۔مولوی برہان الدین صاحب اگر چه حضرت خلیفتہ المسیح الاول جتنا علم نہیں رکھتے تھے لیکن اہل حدیث ہونے کی وجہ سے آپ کا اہل حدیثوں پر اثر زیادہ تھا۔آپ جب احمدیت میں داخل ہوئے تو آپ کی وجہ سے پانچ سات سو اور دوست بھی احمدی ہو گئے۔مولوی نور محمد صاحب لودھی نگل والوں کی وجہ سے بھی پچاس ساٹھ آدمی احمدیت میں داخل ہوئے۔غرض صرف چند دوست ایسے نکلیں گے کہ جن کی وجہ سے بعض اور لوگ بھی احمدیت میں داخل ہوئے۔لیکن باقی سب ایسے تھے کہ جب وہ احمدی ہوئے تو سب لوگ ان کے مخالف ہو گئے۔پس ہماری حالت پہلی اقوام سے بالکل مختلف ہے۔اس زمانہ میں قومیت اور قبائلی سسٹم ختم ہو گیا ہے اور جہاں کہیں قومیت کا احساس ابھی پایا جاتا ہے وہ تعلیم کے رائج ہونے کے ساتھ ساتھ مٹتا جا رہا ہے۔اس زمانہ میں ہر شخص کے اندر سوچنے اور غور کرنے کی عادت پائی جاتی ہے اور وہ اپنے متعلق ہر فیصلہ آزادانہ طور پر کرتا ہے۔قومیت سوچ اور فکر کے نہ ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ہر شخص یہ خیال کرتا ہے کہ میرے پاس غور اور فکر کرنے کے لئے وقت نہیں اور نہ اتنی سمجھ ہے کہ ہر بات کا علم حاصل کر سکوں اس لئے فلاں شخص مان لے گا تو میں بھی مان لوں گا۔لیکن جوں جوں تعلیم آتی جائے گی یہ چیز مٹتی جائے گی۔بیٹا کہے گا کہ میں خود اپنا بھلا اور براسمجھ سکتا ہوں میں اپنے باپ کے پیچھے کیوں چلوں۔اور باپ کہے گا اگر میرے بیٹے نے فلاں مذہب قبول کر لیا ہے تو میں اس کے مذہب میں کیوں دخل دوں۔ہماری جماعت میں سینکڑوں مثالیں ایسی پائی جاتی ہیں کہ باپ احمدی ہو گیا اور بیٹا احمدی نہیں ہوا۔خاوند احمدی ہوا اور بیوی احمدی نہیں ہوئی۔یا بیوی احمدی ہو گئی