زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 356

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 356 جلد دوم اس کے اندر یا تو آتی ہی نہیں اور اگر آتی ہے تو ایک لمبے عرصہ کے بعد جب موقع ضائع ہو جاتا ہے۔میں نے مغربی افریقہ کے مبلغین کو کہا کہ مذاہب کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک وقت کی جدو جہد کے بعد لوگ ان میں گروہ در گروہ شامل ہوئے۔قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت آئے گی تو لوگ اسلام میں فوج در فوج داخل ہوں گے۔1 حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔یا تو یہ کی صورت تھی کہ وہ بنی اسرائیل کو نصیحت کرتے تھے اور وہ رد کر دیتے تھے اور کہتے تھے کہ تیرے آنے سے بادشاہ ہم پر ناراض ہو گیا اور اس نے ہم سے سختی شروع کر دی ہے۔اور یا پھر وہ وقت آیا کہ ساری قوم آپ پر ایمان لے آئی۔اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام جب دنیا میں آئے تو ان کی جماعت میں بھی پہلے ایک ایک دو دو آدمی داخل ہوئے۔قیام فلسطین میں صرف بارہ آدمی آپ پر باقاعدہ طور پر ایمان لائے تھے۔اور تین چار سو آپ کے ہمدرد بن گئے تھے۔باقی لوگ ایک عرصہ کے بعد آپ کی جماعت میں داخل ہوئے۔لیکن دوسو یا اڑھائی سو سال کے عرصہ کے بعد ایک طرف روم اور دوسری طرف اناطولیہ اور مصر کے رہنے والے آپ پر ایمان لے آئے۔اور پھر یہ لوگ آپ کی جماعت میں یکدم آئے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بھی یہی نظر آتا ہے۔آپ کے دعوی کے پہلے 19 سال کے عرصہ میں مسلمان دس پندرہ ہزار تھے۔لیکن آپ کے دعوئی کے آخری دو تین سالوں میں سارا عرب مسلمان ہو گیا۔یا تو آپ ایک ایک شخص کے پاس جاتے تھے اور اسے تبلیغ کرتے تھے لیکن لوگ آپ سے بے التفاتی برتتے یا حقارت سے آپ کی بات رد کر دیتے۔اور یا پھر وہی دلیلیں تھیں ، وہی باتیں تھیں ، آپ نے ایک ایلچی کو پیغام دے کر کسی قوم یا قبیلہ کی طرف بھیجا اور وہ سارے کا سارا مسلمان ہو گیا۔یہی حال ہندوستان میں نظر آتا ہے۔حضرت کرشن کی اپنے زمانہ میں کوئی غیر معمولی حیثیت نہ تھی لوگ صرف آپ کو ایک شہزادہ یا رئیس سمجھتے تھے۔قبولیت کہیں نظر نہیں آتی تھی۔لیکن اب سارا ہندوستان آپ کو ایک برگزیدہ تسلیم کرتا ہے۔یہی حال حضرت رام چندر