زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 349

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 349 جلد دوم جن کی لطیفہ گوئی کی وجہ سے ان کی علمیت کا شہرہ ہو گیا تھا۔ایک گاؤں والوں نے انہیں مجبور کیا کہ وہ جمعہ کا خطبہ پڑھیں۔انہوں نے ٹالنے کی کوشش کی لیکن گاؤں والوں نے اصرار کیا۔چناچہ وہ مان گئے اور کھڑے ہو کر کہنے لگے اے لوگو! تم سمجھ سکتے ہو کہ میں نے کیا کہنا ہے ؟ گاؤں والوں نے کہا نہیں۔اس پر جحا نے کہا اگر تم سمجھ ہی نہیں سکتے کہ میں نے کیا کہنا ہے تو پھر میرے تقریر کرنے سے کیا فائدہ ہے۔گاؤں والوں نے اگلے جمعہ پھر مشورہ کیا کہ آج پھر انہیں خطبہ پر مجبور کیا جائے۔لیکن اس دفعہ اگر وہ کہیں کہ بتاؤ تمہیں معلوم ہے کہ میں نے کیا کہنا ہے ؟ تو سب لوگ یہ کہہ دیں کہ ہمیں معلوم ہے تا گزش جمعہ کی طرح وہ خطبہ چھوڑ نہ دیں۔چنانچہ گاؤں والوں نے انہیں خطبہ دینے کے لئے پھر مجبور کیا اور وہ مان گئے۔اس دفعہ انہوں نے کھڑے ہو کر پھر پوچھا کیا آپ کو معلوم ہے میں نے کیا کہنا ہے؟ سب نے کہا ہاں۔وہ یہ جواب سنتے ہی منبر سے اتر آئے اور کہا کہ جب آپ کو معلوم ہی ہے تو مجھے کچھ کہنے کی کیا ضرورت ہے۔گاؤں والوں نے پھر مشور کیا کہ جحا سے خطبہ ضرور کروانا چاہئے اور مشورہ یہ قرار پایا کہ اب کے نصف لوگ کہیں کہ ہاں ہمیں معلوم ہے اور نصف کہیں کہ ہمیں معلوم نہیں۔شاید اس طرح جحا صاحب قابو میں آجائیں۔چنانچہ پھر جحا پر زور دیا اور ان کو مجبور کر کے خطبہ کے لئے کھڑا کر دیا۔وہ کھڑے ہوئے تو انہوں نے پھر وہی بات کہی کہ اے لوگو! کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے کیا کہنا ہے؟ اس پر حاضرین میں سے بعض نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے اور بعض نے کہا ہمیں معلوم نہیں۔اس پر وہ بولے جنہیں معلوم ہے وہ دوسروں کو بتا دیں۔مجھے تقریر کرنے کی ضرورت نہیں۔یہ تو ایک لطیفہ ہے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ جب ایک واعظ کھڑا ہوتا ہے تو اُس وقت وہ سامعین کو کچھ بتلانے کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔پس اسے ان لوگوں سے گھبرانے کی کیا وجہ ہے جو اس سے کچھ سیکھنا چاہتے ہیں۔پس تقریر آہستگی کے ساتھ کرنی چاہئے۔پھر آہستہ آہستہ کی جب سامعین کے دماغوں اور تقریر کرنے والے کے دماغ میں توازن قائم ہو جائے تو بے شک