زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 345

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 345 جلد دوم ہند و عقیدہ کا پکا تھا وہ بھاگتا گیا۔تھوڑی دیر کے بعد اس کی نظر پٹھان لڑکے کے باپ پر پڑی۔وہ ہندو اس کی طرف بھاگا اور کہنے لگا دیکھئے خان صاحب ! آپ کا لڑکا مجھے مارنا چاہتا ہے۔پٹھان لڑکے نے اپنے باپ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا باپ ! میں اسے کہتا ہوں کہ تو کلمہ پڑھے ورنہ میں تجھے مار دوں گا۔یہ سن کر اس کے باپ نے اس ہندو سے کہا ٹھہر جا! میرے بیٹے کا پہلا وار ہے خالی نہ جائے۔میں نے بھی سمجھا ان کا پہلا وار ہے خالی نہ جائے۔اگر چہ میرے گلے میں سوزش تھی اور سر میں درد تھا لیکن میں نے کہا یہ پہلی کلاس ہے میں وہاں چلا جاؤں۔میں آج آپ لوگوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ہاں لوگ محنت کو غیر ضروری سمجھنے لگ گئے ہیں۔بالعموم ہمارے طلباء اور دوسرے محنت کرنے والے لوگ وقت کی بہت کم قدر کرتے ہیں۔اگر وقت کو کسی اور مفید کام میں لگا دیا جائے تب بھی ٹھیک ہے۔مثلاً وہ وقت ورزش میں لگایا جائے تب بھی یہ سمجھا جائے گا کہ وہ وقت کام آ گیا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ وقت بھی محض گپوں میں صرف کیا جاتا ہے۔طلباء نے ہاتھ میں کتاب پکڑی ہوئی ہوتی ہے لوگ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ وہ پڑھ رہے ہیں لیکن وہ گئیں مار رہے ہوتے ہیں۔کلرکوں نے کاغذ اور قلم سامنے رکھی ہوئی ہوتی ہے اور آپس میں باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔اسی طرح آفیسر بھی کرسیوں پر بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔غرض بے کار اور بے غرض کام کو نہایت ضروری سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ سے وقت ضائع ہوتا چلا جاتا ہے۔مگر محنت کے لئے صحت کی بھی ضرورت ہوتی ہے لیکن اس طرف بھی توجہ کم ہے۔اور کچھ قصور اس حالت کا بھی ہے۔کچھ دنوں سے میں اس بات پر غور کر رہا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ ہمارے مولویوں کی صحت بالعموم خراب رہتی ہے۔آخر میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ اس کی وجہ غذا کا ناقص ہوتا ہے۔بچپن کی عمر میں غذا بے شک ایسی ہونی چاہئے جو وحشی جذبات پیدا نہ کرے لیکن اس سے صحت میں ترقی تو ہونی چاہئے۔ہم جب بچے تھے اُس وقت غذاؤں کا کوئی خاص خیال نہیں کیا جاتا تھا۔مثلاً مجھے یاد نہیں کہ بچپن میں مجھے