زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 339

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 339 جلد دوم روئیدگی کو پیدا کر رہی ہیں۔وادیاں بھی اس روئیدگی کو پیدا کر رہی ہیں۔نشیب بھی وہی روئیدگی پیدا کر رہے ہیں۔چٹیل میدان بھی وہی روئیدگی پیدا کر رہے ہیں۔ریتلے بیابان بھی وہی روئیدگی پیدا کر رہے ہیں۔دریاؤں کی تہیں بھی وہی روئیدگی پیدا کر رہی ہیں۔شہر بھی وہی روئیدگی پیدا کر رہے ہیں۔دیہات بھی وہی روئیدگی پیدا کر رہے ہیں۔مشرق بھی وہی روئیدگی نکال رہا ہے۔مغرب بھی وہی روئیدگی نکال رہا ہے۔شمال بھی وہی روئیدگی نکال رہا ہے اور جنوب بھی وہی روئیدگی نکال رہا ہے۔اب شیطان جائے تو کہاں جائے۔خدائی طاقتیں اسے حاصل نہیں ہوتیں۔وہ زور لگاتا ہے مگر نور کی وسعت اس کی دوڑ سے بہت آگے نکل جاتی ہے۔اور آخر وہ مایوس ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔کیونکہ جہاں بھی روئیدگی شیطانی حملوں سے بچ جاتی ہے وہیں سے وہ آگے بڑھ کر ساری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔یہی روح ہے جس سے قوموں کو فتح کیا جا سکتا ہے۔یہی روح ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنے ماننے والوں میں پیدا کرنی چاہی ، یہی روح ہے جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے متبعین میں پیدا کرنی چاہی اور یہی روح ہے جو اسلام دنیا کے ہر فرد میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔جب تک ہمارے مبلغ یہ سوچتے رہیں گے کہ ایک مرکز ہے جو کام کر رہا ہے اُس وقت تک انہیں حقیقی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔مرکز ہے اور ضرور ہے مگر صرف اشارہ اور راہنمائی کے لئے ہے ، صرف کمزوروں کو سہارا دینے کے لئے ہے ورنہ مومن خود اپنی ذات میں مرکز ہوتا ہے اور اس کو کسی بیرونی مرکز کی ضرورت نہیں ہوتی۔وہ جانتا ہے کہ مرکز اس لئے نہیں بنایا گیا کہ سارا کام مرکز ہی کرے بلکہ وہ سمجھتا ہے کہ کام میں نے کرنا ہے مرکز صرف جماعت کے کمزوروں کی نگرانی اور رہنمائی کے لئے ہے۔جب یہ روح لوگوں میں پیدا ہو جائے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت ان کو مٹا نہیں سکتی۔پس ہمارے مبلغوں کو جب بھی وہ کسی ملک میں تبلیغ اسلام کے لئے جائیں اپنی اس حیثیت کو سمجھ کر جانا چاہئے کہ وہ ایک نئے آدم ہیں جنہیں خدا تعالیٰ نے دنیا میں پیدا کیا۔