زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 337
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 337 جلد دوم زندہ وجود کی ہتک کرنے والوں کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ کی فوج اترا کرتی ہے۔دنیا کی نگاہ میں وہ وفات پاچکے تھے لیکن خدا تعالیٰ کی نگاہ میں وہ زندہ تھے، زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے۔پس جو لوگ خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق رکھتے ہیں وہ وفات یافتہ ہو کر بھی زندہ رہتے ہیں۔اور جو شخص اس تعلق کو سمجھ لیتا ہے اور خود بھی اسی راستہ پر چلنے کی کوشش کرتا ہے وہ بھی زندہ رہتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کوئی زندگیاں چھوٹی ہوتی ہیں اور کوئی بڑی۔رسول کریم کو جو زندگی ملی وہ ابو بکر کو نہیں ملی اور جو زندگی ابو بکر کو ملی وہ عمر کو نہیں ملی۔مگر کوئی شخص جو خدا تعالیٰ سے تعلق رکھنے والا ہو وہ اس زندگی سے کلی طور پر محروم نہیں ہوسکتا۔لوگوں نے غلطی سے یہ سمجھ رکھا ہے کہ صرف تلوار سے مارا جانے والا شہید ہوتا ہے حالانکہ کسی شخص کا تلوار سے مارا جانا تو ایک علامت ہوتی ہے خدائی محبت کی۔اصل شہید وہ لوگ ہیں جو خدا تعالی کی محبت میں مارے جاتے ہیں۔اور وہ شخص جو خدا تعالیٰ کی محبت میں مرتان ہے وہ مرنے کے باوجود کبھی نہیں مر سکتا۔جس شخص نے خدا تعالیٰ کے لئے موت قبول کی ، چاہے تلوار کے ذریعہ کی چاہے دین کی اشاعت کرتے ہوئے کی ، چاہے دنیا کی مصیبتوں کے اور آفات کا مقابلہ کرتے ہوئے کی خدا تعالیٰ کی غیرت یہ کبھی برداشت نہیں کر سکتی کہ وہ جس نے اس کے لئے موت برداشت کی ہے وہ اسے مرا ر ہنے دے۔وہ اسے زندگی دیتا ہے اور ہمیشہ کے لئے زندہ کر دیتا ہے۔پس اس روح کے ساتھ خدا تعالیٰ کے دین کی تبلیغ کرو، اس ارادہ کے ساتھ خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لئے نکلو کہ اس نے اپنے دین کو قائم کرنے کے لئے صرف تم کو چنا ہے۔تم بھول جاؤ اس بات کو کہ دنیا میں کوئی اور انسان بھی ہے، تم بھول جاؤ اس بات کو کہ دنیا میں کوئی اور بھی ملک ہے، تم بھول جاؤ اس بات کو کہ دنیا میں کوئی اور قوم بھی ہے۔تم صرف ایک بات کو یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ نے کام کرنا تمہارے سپرد کیا ہے۔خدا تعالیٰ نے اس عظیم الشان منصب کے لئے تمہیں اور صرف تمہیں چنا ہے۔جب تم اس حقیقت کو سمجھ لو