زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 29

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 29 جلد دوم تشریحات کی ہیں ان کے یہ معنی نہیں کہ آپ دنیا سے ڈرتے تھے بلکہ آپ یہ چاہتے تھے کہ نبوت کو ایسے رنگ میں پیش کریں کہ لوگ الفاظ میں نہ الجھ جائیں اور ایسا طریق اختیار کریں کہ بغیر اس کے کہ سچائی کا ایک ذرہ بھی چھوڑیں اصل بات بیان کر دی جائے تاکہ لوگوں کے احساسات کو صدمہ نہ پہنچے۔ہماری غرض کسی کو کافر بنانا نہیں بلکہ مومن بنانا ہے۔کا فر خود بنتا ہے۔اگر ہم ایسا طریق اختیار کرتے ہیں کہ کسی کو کافر بننے میں مدد دیتے ہیں تو خود ملزم بنتے ہیں۔ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خوبی ہوتی ہے۔مجھے تو ابو جہل میں بھی خوبی نظر آتی ہے۔بدر کے دن جب اس نے کہا کہ اے خدا! اگر اسلام سچا ہے تو مجھ پر پتھر برسا 8 تو یہ بھی اپنے رنگ میں حسن ہی تھا۔کیونکہ جس مذہب کو وہ سچا سمجھتا تھا اس کے لئے پتھر کھانے کو تیار ہو گیا۔یہ بھی اپنے رنگ کا حسن تھا جو خدا تعالیٰ نے اس میں پیدا کیا۔پس مبلغین کو ایسا طریق اختیار کرنا چاہئے کہ تنگ دلی اور تنگ ظرفی نہ پائی جائے۔خصوصاً وہ مبلغ جو عربی ممالک میں جائیں کیونکہ وہاں خشونت زیادہ پائی جاتی ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے مستقل اور باقاعدہ مبلغ اور دوسرے دوست بھی ان باتوں پر عمل کریں گے۔اگر زیادہ نہیں تو کچھ دن ہی عمل کر کے دیکھ لیں اور پھر دیکھیں کیا نتیجہ نکلتا ہے۔یہ عام مرض پایا جاتا ہے کہ لوگ جو باتیں سنتے ہیں انہیں فوراً بھول جاتے ہیں اور سننے کے بعد ان کے خلاف کرنے لگ جاتے ہیں۔جان کر نہیں بلکہ اس لئے کہ وہ باتیں عمل کرنے کے لئے سنتے ہی نہیں بلکہ مزہ حاصل کرنے کے لئے سنتے ہیں۔اگر عمل کرنے کے لئے سنیں تو عظیم الشان تغیر پیدا ہو جائے۔یہی باتیں جو اس وقت میں نے بیان کی ہیں ان پر عمل کر کے دیکھ لو اگلے ہی سال اگر نقشہ نہ بدل جائے تو جو چاہو کہو۔مگر مشکل یہی ہے کہ عمل کرنے کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔پچھلے دنوں میں نے ایک تبلیغی وفد یہ نصیحت کر کے بھیجا کہ یہ سمجھ کر جاؤ کہ ماریں کھانی پڑیں گی، تکلیفیں ہوں گی مگر سب کچھ برداشت کریں گے اور تبلیغ کرتے رہیں گے۔لیکن جب کسی کو ذرا تکلیف پہنچی اس نے لوگوں کو یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہماری جماعت کے لوگ تمہاری خبر لیں گے۔کئی ایک نے