زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 326

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 326 جلد دوم نہیں ہوتا۔ہم نے قادیان سے پرواز کی اور کچھ دیر لاہور ٹھہرے۔پھر ایک پرواز کی اور کچھ آدمی احمد نگر چلے گئے اور کچھ چنیوٹ میں ہی ٹھہر گئے اور کچھ اُس جگہ کی تلاش میں گئے جہاں وہ اپنا نیا چھتہ بنائیں۔اب ہم معماروں کی طرح نیا چھتہ بنا رہے ہیں اور اس امید میں ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم کے ساتھ اسے شہد کے ساتھ بھر دیں گے اور کھیاں سمٹ کر دوبارہ یہاں آ بیٹھیں گی۔تم طالبعلم اس انتظار میں ہو کہ چھتہ بن جائے تو ہم وہاں جابیٹھیں۔احمد نگر والے اُس دن کا انتظار کر رہے ہیں جب ہم معماروں کی طرح وہ چھتہ تیار کر لیں گے جس میں اُنہوں نے بیٹھنا ہے۔یہ نشان جس طرح اسلام میں ظاہر ہوا ہے شاید ہی کسی دوسرے مذہب میں ظاہر ہوا ہو۔یہ چیزیں منفردانہ حیثیت رکھتی ہیں۔جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات نے باقی انبیاء کے مقابلہ میں اپنی منفردانہ حیثیت کو پیش کیا ہے آپ کے اتباع نے بھی اپنی منفردانہ حیثیت کو پیش کیا ہے۔میں تاریخ کا بڑا مطالعہ کرنے والا ہوں۔میں نے یہ مثال کہیں بھی نہیں دیکھی کہ ایک نوجوان نے اپنی نو جوانی میں ایک چھتہ قائم رکھا ہو اور پھر اسے بڑھاپے میں بھی اُسے قائم رکھنے کی توفیق ملی ہو۔تم دیکھو گے کہ ایک شخص جوانی میں ایک چیز بناتا ہے اور پھر وہ بنتی چلی جاتی ہے۔ایک شخص بڑھاپے میں ایک چیز بناتا ہے اور پھر وہ بنتی چلی جاتی ہے۔مگر ایک شخص نے اپنی جوانی میں بھی ایک ایسے حملہ کا مقابلہ کیا جس نے جماعت کو تہہ و بالا کر لینے کا تہیہ کر لیا تھا۔ابھی تو میں نے خلافت کا جھگڑا نظر انداز کر دیا ہے۔جب میں صرف 25 سال کی عمر کا تھا اور دشمن نے ہمارا چھتہ اجاڑنے کی کوشش کی۔غرض ایک شخص سے جوانی میں بھی یہ کام لیا گیا ہو اور پھر بڑھاپے میں اُس سے بھی زیادہ خطر ناک حالت میں اُس سے وہی کام لیا گیا ہو اور اُس نے جماعت کو پھر اکٹھا کر دیا ہو اس کی مثال دنیا میں کہیں اور نہیں ملتی۔حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے کہ ایک بڑھیا بڑی محنتی تھی۔اس نے سوت کات کات کر اُس کی مزدوری سے سونے کے کڑے بنائے لیکن ایک چور آیا اور ایک رات زبر دستی وہ کڑے چھین کر لے گیا۔اُس بڑھیا نے چور کی شکل پہچان لی۔سال دو سال بعد اُس