زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 321
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 321 جلد دوم ہیں۔بعض افراد ایسے بھی تھے جنہوں نے یہاں تک کہا کہ ہمیں دینیات کی بھی کیا ضرورت ہے۔چنانچہ کوئٹہ کے تحصیلدار نذیراحمد صاحب نے یہی بات کہی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اس بات کی تائید کی کہ ہائی سکول بھی قائم رکھا جائے۔آپ نے فرمایا میرا یہ منشا ہر گز نہیں تھا کہ ہائی سکول کو توڑ دیا جائے اور دینیات کلاس کھولی جائے۔پھر مدرسہ احمدیہ قائم ہوا 1906 ء یا 1907ء کی بات ہے۔گویا مدرسہ احمدیہ کی بنیادی بھی نہایت چھوٹے پیمانہ پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود رکھی۔اس کے سال دوسال بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہو گئے۔آپ کے فوت ہو جانے کے بعد وہی لوگ جنہوں نے یہ تجویز کی تھی کہ ہائی سکول توڑ کر دینی کلاس کھولی جائے انہوں نے یہ تجویز کیا کہ مدرسہ احمدیہ تو ڑ دیا جائے اور ہائی سکول کو قائم رکھا جائے اور لڑکوں کو وظیفے دے کر کالج کی تعلیم حاصل کرائی جائے۔اب کی دفعہ یہ مد نظر رکھا گیا کہ یہ تجویز نا کام نہ ہو اور مجلس شوری کے قائم ہونے سے پہلے جماعتوں میں دورے کر کے اُن پر یہ اثر ڈال لیں تا جب یہ بات شوری کے سامنے پیش ہو تو پہلے ہی جماعتیں اس کی تائید کریں۔چنانچہ صدرانجمن احمدیہ کے ایجنڈا میں یہ بات رکھی گئی کہ جلسہ سالانہ کے موقع پر مشورہ کر لیا جائے۔میں بھی صدر انجمن احمدیہ کا ممبر تھا لیکن اتفاقاً یا ارادہ وہ تجویز مجھے نہ بھیجی گئی۔نتیجہ یہ ہوا کہ مجھے معلوم بھی نہ ہوا کہ کیا ہونے والا ہے۔میں چھوٹی مسجد کے باہر کسی سے باتیں کر رہا تھا کہ کسی نے کہا اندر شورٹی ہورہی ہے اور آپ یہاں کھڑے ہیں۔میں نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے۔میں مسجد میں گیا ، کیا دیکھتا ہوں کہ مسجد کناروں تک بھری ہوئی ہے۔میں نے آگے نکلنا چاہا لیکن جگہ نہیں تھی۔اُس وقت چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کے ماموں چودھری عبد اللہ خان صاحب وہاں کھڑے تھے۔ایک دھند کی ہی یاد پڑتی ہے کہ انہوں نے کہا اچھا ہوا کہ آپ آگئے۔کنارے کے پاس ذرا آگے مجھے تھوڑی سی جگہ مل گئی اور میں وہاں کھڑا ہو گیا۔میں نے دیکھا کہ ایک کے بعد دوسرا کھڑا ہوتا ہے اور دوسرے کے بعد تیسرا کھڑا ہوتا ہے اور کہتا ہے ہمیں اس سکول کی ضرورت ہی کیا ہے،