زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 317
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 317 جلد دوم تعلیم الاسلام ہائی اسکول اور مدرسہ احمدیہ کے قیام و استحکام میں ایک نو جوان کا تاریخی کردار 16 مئی 1950ء بوقت شام 6 بجے تعلیم الاسلام ہائی اسکول کے اساتذہ اور طلباء کی طرف سے چنیوٹ میں بیرونی ممالک کے ان تمام مبلغین کے اعزاز میں دعوت طعام دی گئی جو اُس وقت ربوہ میں موجود تھے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اس موقع پر تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل تقریر فرمائی:۔بات تو کئی دفعہ کہی ہوئی ہے لیکن پھر بھی کسی نے کہا ہے گاہے گاہے باز خواں ایں قصہ پارینه را سنی ہوئی باتیں پھر کئی دفعہ سنی جاتی ہیں اور کہی ہوئی باتیں بھی کئی دفعہ کہی جاتی ہیں۔کبھی تو اس لئے کہ دل ان کی یاد سے خوش ہوتا ہے یا دل ان کی یاد سے اپنے غم کو تازہ کرنا چاہتا ہے اور کبھی اس لئے ایک کہی ہوئی بات جو نہایت ضروری ہوتی ہے باوجود اس کے کہ وہ کہی ہوئی ہوتی ہے اثر کرنے سے قاصر رہ جاتی ہے اس لئے اسے بار بار دہرانا ضروری ہوتا ہے تا وہ اثر انداز ہو۔پس کوئی وجہ سمجھ لو مجھے آج پھر ایک پرانا قصہ دہرانا پڑ رہا ہے ہے۔ہماری زبان میں دہرانا پڑ رہا ہے" کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ کوئی شخص اپنے نفس پر کی جبر کر کے وہ کام کر رہا ہے۔میں نے ان معنوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا ہے اور یہ فقرہ کی میرے منہ سے اتفاقی طور پر نہیں نکلا۔مگر یہ چیز کسی جبر کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے ہی نفس کی طرف سے اور اپنی ہی پرانی یادوں کی وجہ سے ہے جنہوں نے میرے دل میں پھر اپنا