زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 315

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 315 جلد دوم نصرت کام کر رہی ہے۔اور یہی وہ نقطہ نگاہ ہے جو تمہارے اندر اللہ تعالیٰ کی محبت کی آگ روشن کر سکتا ہے۔یوں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی لوگ ہی دیتے تھے مگر وجہ کیا ہے کہ وہ ہر تائید کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے تھے اس کی وجہ یہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہاما فرما دیا تھا کہ يَنصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِي إِلَيْهِمُ مِنَ السَّمَاءِ کے مدد کرنے والے لوگ تیری مدد کریں گے اور تحائف پیش کرنے والے تیرے پاس تھے لائیں گے۔مگر درحقیقت وہ نہیں دے رہے ہوں گے بلکہ ہم ان کی گردنیں پکڑ کر تیرے پاس لا رہے ہوں گے اور وہ جو کچھ تجھے دیں گے ہمارے حکم کے ماتحت دیں گے۔دنیا میں دینے والا احسان کرتا ہے اور لینے والا ممنون ہوتا ہے مگر یہاں دینے والا ممنون ہوتا ہے اور لینے والا احسان کرتا ہے۔یہ یدالعلیا خدا تعالیٰ کے مامور کا ہاتھ ہوتا ہے اور يَدُ الشغلی اُس شخص کا ہاتھ ہوتا ہے جو دے رہا ہوتا ہے۔اسی طرح تمہیں بھی نظر آنا چاہئے کہ جو کچھ تمہیں مل رہا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مل رہا ہے اور تمہارے اندر اتنی روحانیت ہونی چاہئے کہ تمہارا اٹھنا اور تمہارا بیٹھنا، تمہارا اوڑھنا اور تمہارا بچھونا ، تمہارا سونا اور تمہارا جاگنا، تمہارا بولنا اور تمہارا خاموش رہنا سب کچھ خدا کے لئے ہو۔پس تم اپنے آپ کو اس جماعت کا صحیح معنوں میں فرد بنانے کی کوشش کرو جس جماعت کا عالم کہلانے کا اُس نے تمہیں موقع عطا فرمایا ہے۔ورنہ اگر تمہاری دینی حالت کمزور رہے گی اور تمہارے اندر دین کی رغبت اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور اسلام کی اشاعت کی ایک آگ اور سوزش نہیں ہوگی تو اللہ تعالیٰ ہی تمہارا انجام بخیر کرے تو کرے اس کے سوا تمہارے بچاؤ کی اور کوئی صورت نظر نہیں آتی۔میں آخر میں دوبارہ طالبعلموں سے کہتا ہوں کہ کرو جو کچھ تمہارے اساتذہ کہتے ہیں نگرمت کرو جو وہ کرتے ہیں کیونکہ ان پر اس قسم کی سستی اور لا پرواہی چھائی ہوئی ہے کہ کیا اسے دیکھ کر دل لرز جاتا ہے۔تمہارے اندر ایک آگ ہونی چاہئے۔تمہارے اندر ایک