زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 310
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 310 جلد دوم ہے لیکن جماعت زندہ ہے اور جماعتی روح جسے دوسرے لفظوں میں خلافت کہتے ہیں وہ بھی زندہ ہے۔تمہیں یا رکھنا چاہئے ایک مرکز ہے جس کے بنائے ہوئے قانونوں پر تمہیں پوری طرح عمل کرنا پڑے گا۔اور اگر کوئی شخص اس کی خلاف ورزی کرے گا تو اسے جماعت کے میں سے خارج کر دیا جائے گا۔پس بیرونی مبلغین بھی اپنے پہلے طریق کو بدل لیں۔یہ کہ محکمہ کی کمزوری کی وجہ سے تم اپنے علاقوں میں حاکم بنے رہو اس کے یہ معنی نہیں کہ تمہیں جماعت سے نکالا نہیں جاسکتا۔اگر تم دس ہزار میل پر بھی بیٹھے ہوا اور تمہیں اپنے علاقوں میں لاکھوں لوگ عقیدت مندانہ نگاہوں سے دیکھتے ہوں ، تب بھی مرکز کی نافرمانی کرنے پر تم جماعت میں سے نکال دیئے جاؤ گے۔اس وقت تک اس بارہ میں کوتاہی سے کام لیا گیا ہے کیونکہ کام پر ایسے آدمی مقرر تھے جنہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں تھا۔مگر اب ہم مرکز کوایسا مضبوط بنانے والے ہیں کہ مرکز کے ہر لفظ کی اطاعت ضروری ہوگی اور اگر کسی قسم کی کو تاہی ہوئی تو ایسے شخص کو سخت سزا دی جائے گی۔پس وہ من مانی کارروائیاں جو بیرونی مبلغین کر لیا کرتے تھے اب ان کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ تمہارے جاہلیت کے تمام خون میں اپنے پاؤں کے نیچے مسلتا ہوں۔اب کسی شخص کے لئے ان کا بدلہ لینا جائز نہیں ہوگا۔5 اسی طرح میں اپنے پہلے طریق کو اپنے پاؤں کے نیچے مسلتا ہوں۔“ اس موقع پر حضور نے اپنے پاؤں کو زمین پر رگڑا اور بڑے پر جلال انداز میں فرمایا اب تمہیں مرکز کی کامل طور پر لفظاً لفظا ، قد ماقد ما اور شبراً شبراً اطاعت کرنی پڑے گی اور اگر اس بارہ میں کسی قسم کی غفلت کی گئی تو میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ایسے شخص کے خلاف جماعتی طور پر شدید ترین کارروائی کی جائے گی۔تمہیں یادرکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک لمبے عرصہ کے بعد پھر مسلمانوں کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کیا ہے اور اس اتحاد کو برقرار رکھنے کے لئے ہماری تمام کوششیں وقف رہنی چاہئیں۔