زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 307
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 307 جلد دوم کوئی شبہ نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ بعض اور لوگوں کو کھڑا کر دے گا جو اس کے دین کے لئے قربانیاں پیش کریں گے اور ہم اس کی مدد اور نصرت سے محروم ہو جائیں گے۔حالانکہ ایک مومن کے لئے جہاں یہ امر خوشی کا موجب ہوتا ہے کہ اس کا خدا جیت جائے وہاں اگر وہ پاگل نہیں اور اگر اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی سچی محبت پائی جاتی ہے تو وہ یہ بھی خواہش رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ میں بھی جیت جاؤں۔پس یہ سوال نہیں کہ اسلام کو فتح حاصل کی ہوگی یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ میرے ہاتھ سے اسلام کو فتح ہو اور میرے ہاتھ سے کفر کی موت واقعہ ہو۔اگر میرے ہاتھ سے کفر کے دیو شکست کھا جائیں اور اگر میرے ہاتھ سے اس کے بت ٹوٹ جائیں تو میرے لئے اس سے زیادہ خوشی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے۔آج میں نے خصوصیت سے اس مقام پر یہ جلسہ اس لئے رکھا ہے تا کہ میں طلباء کو بھی اور اساتذہ کو بھی ان کے فرائض کی طرف توجہ دلاؤں۔میں تمہیں ہوشیار کرتا ہوں کہ اس کے وقت تک تمہارے بعض علماء نے اپنے پینترے نہیں بدلے، انہوں نے ابھی تک زمانہ حال کی ضروریات کے مطابق اپنے آپ کو نہیں ڈھالا، ان کی جد و جہد اس سے بہت کم ہے جتنی ہونی چاہئے ، اُن کے افکار اُس سے بہت کم ہیں جتنے ہونے چاہئیں۔پس میں کہتا ہوں کہ تم زمانہ کی ضرورت کو سمجھو اور زمانہ کی ضرورت کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالو۔میں تمہیں مسیح ناصری کے الفاظ میں کہتا ہوں کہ : وہ در فقیہی اور فریسی جو کچھ کہتے ہیں وہ کر دمگر جو کچھ کرتے ہیں وہ مت کرو۔4 تم اپنے اساتذہ کی باتوں کو سنو اور جو کچھ وہ کہیں اُسی طرح کرو مگر تم ان کے عمل کی طرف مت دیکھو۔اُن میں وہ جدو جہد نہیں پائی جاتی جو ایک پاگل عاشق میں پائی جانی چاہئے ، نہ وہ ان راہوں کو نکالتے ہیں جن راہوں کے نکالے بغیر کامیابی کا حصول مشکل ہے۔پس اس لئے کہ وہ عالم ہیں اور تم اُن کے شاگرد بنائے گئے ہو تم اُن کی باتوں کو مانو مگر جیسے مسیح ناصری نے کہا تھا تو کر جو فقیہی اور فریسی کہتا ہے مگر تو مت کر جو فقیہی اور فریسی کرتا ہے۔تم بھی وہ کچھ کرو جو تمہارے اساتذہ تمہیں پڑھائیں مگر تم ان کے اعمال کو اپنے