زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 26
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 26 جلد دوم نہیں ہو سکتے جب تک ان کے نقش قدم پر نہ چلیں جن کو خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے اسوہ قائم کیا ہے۔مگر بعض الفاظ سے دھوکا کھا جاتے ہیں جب قرآن میں پڑھتے ہیں کہ انبیاء کو ماننے والے اراذل تھے تو سمجھتے ہیں خدا تعالیٰ کے سلسلہ میں پہلے ایسے ہی لوگ داخل ہوتے ہیں مگر یہ نہیں غور کرتے کہ اراذل سے مراد کیا ہے۔حضرت ابراہیم کے ابتدائی ماننے والوں میں حضرت لوظ بھی تھے جو انہیں کے خاندان میں سے تھے۔اسی طرح حضرت موسیٰ پر ابتدا میں ایمان لانے والے حضرت ہارون تھے۔اگر انبیاء کو پہلے ماننے والے رذیل لوگ ہوتے ہیں تو حضرت ہارون کو بھی یہی کہنا پڑے گا۔اور وہ چونکہ حضرت موسی کے بھائی تھے اس لئے حضرت موسی بھی نعوذ باللہ ایسے ہی ہوئے۔رسول کریم میہ صلى الله کے زمانہ کی تو تاریخ موجود ہے کہ آپ کو کس کس نے ابتدا میں مانا۔ان میں حضرت علیؓ، حضرت خدیجہ، حضرت ابو بکر بھی شامل تھے۔کیا ان کو اراذل ان معنوں میں کہا جا سکتا ہے جو عام طور پر سمجھے جاتے ہیں؟ پس اراذل کا وہ غلط مفہوم ہے جو مبلغین اور دوسرے لوگ سمجھے ہوئے ہیں۔قرآن کریم اسے رد کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَوَلَمْ يَرَوا انَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا 7 اطراف دو انتہائی حدود کو کہتے ہیں گویا ایک حد اشراف کی ہے اور ایک اراذل کی۔یعنی ایک اعلیٰ خاندانوں کی حد ہے اور ایک عام لوگوں کی جنہیں مالی یا جسمانی طاقت حاصل نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم ان دونوں طرفوں کو سمیٹ رہے ہیں۔ایک طرف بااثر لوگوں میں سے اسلام میں داخل کر رہے ہیں دوسری طرف کمزوروں سے۔پس اراذل سے یہ مراد نہیں کہ ادنی خاندان کے لوگ بلکہ وہ لوگ جو مالی لحاظ سے یا طاقت کے لحاظ سے کمزور ہوں۔انہیں اراذل اس لئے نہیں کہا گیا کہ خاندانی لحاظ سے رذیل تھے بلکہ اس لئے کہ ان میں اس وقت کسی قسم کی طاقت اور قوت نہ تھی۔حضرت عثمان ، زبیر عبد الله، سعد وغیرہ اعلیٰ خاندانوں میں سے تھے مگر اراذل تھے کیونکہ ابتدائی زمانہ میں ان کے پاس دولت نہ تھی ، طاقت نہ تھی۔وہ ان کے بڑوں کے پاس تھی اور وہ اسلام میں داخل نہ تھے۔حضرت علیؓ جب ایمان لائے تو