زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 301

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 301 جلد دوم میں پائی جاتی ہیں تو ہم آپ کو کیوں مانیں ؟ اگر کہو کہ بعض عقائد میں تبدیلی پیدا ہو چکی تھی جن کی اصلاح ضروری تھی تو اس غرض کے لئے ہمارے مولوی کافی تھے مرزا صاحب پر ایمان لانا کہاں سے نکل آیا۔یہی سوالات مسیحیوں کے سامنے آئے۔اب بجائے اس کے کہ وہ اس لڑائی کو صبر اور استقلال اور دعاؤں سے فتح کرتے کچھ مدت کے بعد کمزور عیسائیوں نے گھبرا کر یہ کہنا شروع کر دیا کہ مسیح خدا کا بیٹا تھا۔وہ دنیا کے گناہوں کا کفارہ کی ہو گیا۔اُس نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ شریعت لعنت ہے۔جب اِس طرح ایک نئی چیزی لوگوں کے سامنے پیش کی گئی تو لوگوں نے عیسائیت میں داخل ہونا شروع کر دیا۔یہی خطرہ ہمارے سامنے ہے۔ہماری کامیابی میں بھی سب سے بڑی مشکل لوگوں کا یہی سوال ہے کہ حضرت مرزا صاحب کیا لائے؟ اگر تو ہم نے استقلال سے کام لیا تو کی آہستہ آہستہ ہم اس لڑائی کو انشاء الله فتح کرلیں گے۔لیکن اگر ہم نے بھی گھبرا کر کوئی غلط قدم اٹھا لیا تو لوگ بے شک ہمارے اندر شامل ہو جائیں گے مگر ہم ایک نئی عیسائیت کی بنیاد رکھنے والے بن جائیں گے۔پس یہ بھی ایک بڑی کٹھن منزل ہے جس کو ہم نے صبر اور استقلال اور دعاؤں سے طے کرتا ہے۔اور یہ مشکل ایسی ہی ہے جیسے سانپ کے منہ میں کی چھپکلی۔اُگل دے تو کوڑھی ہو جائے اور نگلے تو مر جائے۔اگر ہم ان مشکلات کو قائم رہنے دیتے ہیں تو کامیابی کا حصول مشکل نظر آتا ہے۔اور اگر ہم اپنا پینترا بدل لیتے ہیں تو آپ بھی بے دین ہوتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو بھی بے دین کرتے ہیں۔پس ہمیں بہت زیادہ غور وفکر اور ہوشیاری سے کام لینے کی ضرورت ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اسلام کو ایسے رنگ میں قائم کریں کہ نہ اسلام بدلے، نہ اس کی تعلیموں میں کوئی تغیر ہو اور نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہمیت اور آپ کے درجہ میں کوئی فرق آئے۔یہ ایک بہت ہی مشکل کام ہے جس کے لئے ہمیں پہلوں سے بہت زیادہ ہوشیار اور بیدار رہنے کی ضرورت ہے۔وہ قومیں جن کو جلد ترقی اور حکومت مل جاتی ہے وہ پھر بھی حکومت کے سہارے ان مشکلات کا ایک حد تک مقابلہ کر سکتی ہیں۔لیکن ہماری ترقی بتدریج اور آہستگی کے ساتھ