زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 297
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 297 جلد دوم آتے رہے وہ تو یہ کہتے تھے کہ پہلی شریعت منسوخ ہوگئی ہے یا ہم نے براہ راست نبوت حاصل کی ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ آپ کوئی نئی شریعت نہیں لائے ، نہ آپ نے براہ راست نبوت کا مقام حاصل کیا ہے بلکہ قرآن کریم اور اسلام کے احکام ہمیشہ کے لئے واجب العمل رہیں گے مگر اس کے باوجود لوگوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لائیں۔یہ چیز ایسی ہے جس کا سمجھنا ان کے لئے بڑا مشکل ہے۔واقعہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس دنیا میں مبعوث ہو کر یہ نہیں فرمایا کہ میں قرآن کریم کو بدلنے آیا ہوں ، آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو بدلنے آیا ہوں بلکہ آپ نے یہ فرمایا کہ میں تمہیں بدلنے کے لئے آیا ہوں۔اور یہ ایک ایسی بات ہے جس کو سن کر کئی لوگ کہہ دیتے ہیں کہ جب مرزا صاحب کوئی نئی چیز نہیں لائے تو ہم انہیں مانیں کیوں؟ میں نے دیکھا ہے کئی لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا مرزا صاحب کا کوئی نیا کلمہ ہے؟ میں کہتا ہوں نہیں۔وہ کہتے ہیں کیا آپ نئی شریعت لائے ہیں؟ میں کہتا ہوں نہیں۔وہ کہتے ہیں کیا آپ اسلام میں کوئی تبدیلی کرنے کے لئے آئے کی ہیں؟ میں کہتا ہوں نہیں۔اس پر وہ عجیب قسم کی مسکراہٹ ظاہر کر کے کہتے ہیں کہ پھر ہم آپ پر کیوں ایمان لائیں؟ یہ ایک ایسی مشکل ہے جس کا مقابلہ کرنا ہماری جماعت کا فرض ہے۔پس پہلے لوگوں کی مشکلات اور رنگ کی تھیں اور ہماری مشکلات اور رنگ کی ہیں ، اُن کے سامنے اور سوالات تھے اور ہمارے سامنے اور سوالات ہیں۔پھر بڑی دقت یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں ایسی قومیں غالب ہیں جن کی اسلام کے ساتھ ایسی شدید دشمنی ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم یہود کو اسلام کا شدید ترین دشمن پاؤ گے لیکن اس زمانہ میں اسلام کا شدید ترین دشمن عیسائی ہے۔اگر یہودی دشمنی کرتا ہے تو وہ بھی عیسائی کی مدد سے ہی کرتا ہے۔جب امریکہ کی مدد اس کے پیچھے ہوتی ہے، جب فرانس اور دوسرے ممالک کی تو ہیں عرب ممالک کا رخ