زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 294
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 294 جلد دوم کو خدا تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ اسے نیا مضمون نکالنے کے لئے کسی نے محرک کی ضرورت ہوتی ہے۔ایک بامذاق انسان جو ہنسی اور مزاح کی طرف اپنا میلان رکھتا ہے وہ بھی ہر وقت ہنسی اور مزاح کی باتیں نہیں کرتا بلکہ ان باتوں کے لئے اسے بھی کسی محرک کی ضرورت ہوتی ہے۔ایک شاعر جو شعر کہنے کا عادی ہے وہ بھی ہر وقت شعر نہیں کہہ سکتا بلکہ اسے بھی کسی محرک کی ضرورت ہوتی ہے۔برسات کا موسم ہوتا ہے ، آسمان پر بادل آئے ہوئے ہوتے ہیں، ٹھنڈی ہوا چل رہی ہوتی ہے تو اُس کے جسم میں حرکت اور خون میں تازگی پیدا ہو جاتی ہے اور اُس کی طبیعت شعر کہنے کی طرف مائل ہو جاتی ہے۔یا چمن میں گئے اور فوارے چلتے دیکھے تو طبیعت جس ڈگر پر چل رہی تھی اس سے بدل گئی اور شعر کی طرف مائل ہو گئی۔یا چاندنی رات ہے، میدان میں سیر کے لئے نکلے تو چاند کی چاندنی سے متاثر ہوئے اور شعر کہنے لگ گئے۔یا صبح کے وقت ٹھنڈی ہوا سے آنکھ کھل گئی دیکھا تو نیند پوری ہو چکی تھی اور طبیعت میں شگفتگی تھی اُس وقت صبح کی ٹھنڈی ہوا نے تحریک پیدا کر دی اور شعر گوئی کی طرف طبیعت کا میلان ہو گیا۔تو کوئی نہ کوئی ذریعہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے۔اگر وہ ذرائع اچھے ہوں اور طبیعت بھی اچھی ہو تو اچھے نتائج پیدا ہوتے ہیں۔اور اگر ذرائع اچھے نہ ہوں یا طبیعت اچھی نہ ہو تو خوشگوار نتائج پیدا نہیں ہو سکتے۔شاہ عالم بادشاہ سودا سے اپنے شعر درست کروایا کرتے تھے۔ایک دفعہ بادشاہ نے اپنی ایک غزل سودا کو اصلاح کے لئے دی مگر ایک ہفتہ گزر گیا اور انہوں نے نظم واپس نہ کی۔بادشاہ نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ طبیعت حاضر نہیں۔اس پر پھر ایک ہفتہ گزر گیا۔اگلے ہفتہ انہوں نے دوبارہ دریافت کروایا تو سو دانے پھر یہی جواب دیا کہ طبیعت حاضر نہیں۔مجبوراً بادشاہ نے ایک اور ہفتہ انتظار کیا اور خیال کیا کہ شاید اب غزل واپس آجائے گی مگر پھر بھی نظم واپس نہ آئی۔اور جب بادشاہ نے پوچھا تو انہوں نے پھر یہی جواب دیا کہ طبیعت حاضر نہیں۔اس پر بادشاہ کو غصہ آیا اور اس نے کہا کہ آپ کی طبیعت بھی عجیب ہے کہ حاضر ہونے میں ہی نہیں آتی۔ہم تو پاخانہ بیٹھے بیٹھے دو غزلیں کہہ دیا