زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 289

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 289 جلد دوم محترم چودھری منیر احم صاحب واقف زندگی کاسفر انگستان اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی ہدایات مندرجہ ذیل ہدایات حضرت خلیفۃالمسیح الثانی نے محترم چودھری منیر احمد صاحب واقف زندگی کو ان کی 19 جنوری 1947ء کو انگلستان روانگی سے قبل لکھ کر عطا فرمائیں:۔اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ـ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ آپ واقف زندگی ہیں ، تعلیم یافتہ ہیں، ایک فن جانتے ہیں۔نوکری کرتے یا اپنا کام کرتے تو اپنی حد کے اندر دنیا کماتے ، رشتہ داروں کی ترقی کا موجب ہوتے۔لیکن اب آپ نے خدا تعالیٰ کے لئے اپنے ارادوں کو قربان کر دیا ہے۔یہ نازک مرحلہ ہے۔ایک قدم ادھر سے اُدھر ہو کر قعر مذلت میں گرا سکتا ہے۔اپنے عہد پر قائم رہیں تو دین و دنیا آپ کی ہے۔اس میں ذراسی لغزش ہو تو تباہی اور بربادی ہے۔آپ نے دین کے لئے زندگی وقف کی ہے لیکن آپ کو تجارت کے لئے بھجوایا جارہا ہے۔یہ عجیب بات نہیں۔ساری فوج لڑے تو شکست یقینی ہے۔کچھ لوگ گولہ بارود بناتے ہیں، کچھ روٹی پکاتے ہیں، کچھ بندوقیں تیار کرتے ہیں، کچھ کپڑے، کچھ بوٹ، کچھ موٹر بناتے ہیں۔اگر یہ لوگ اپنے کام پر خوش نہ ہوں اور جوش سے اور حسب ضرورت بلکہ زائد از ضرورت کام نہ کریں تو لڑائی میں شکست یقینی ہے۔ان کے بغیر سپاہی قیدی ہے، مقتول ہے، فاتح اور غالب نہیں۔پس آپ کا کام مبلغوں سے کم نہیں۔مبلغ اپنی جگہ