زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 284
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 284 جلد دوم اور کون مرتا ہے۔ایسے موقع پر سب سے مقدم ، سب سے اعلیٰ اور سب سے ضروری بھی ہوتا ہے کہ جیسے پروانے شمع پر قربان ہوتے چلے جاتے ہیں اسی طرح نوجوان اپنی زندگیاں اسلام کے احیاء کے لئے قربان کر دیں۔کیونکہ ان کی موت کے ساتھ ان کی قوم اور ان کے دین کی زندگی وابستہ ہوتی ہے۔اور یہ قطعی اور یقینی بات ہے کہ اگر قوم اور دین کی زندگی کے لئے دس لاکھ یا دس کروڑ یا دس ارب افراد بھی مر جاتے ہیں تو ان کی پرواہ نہیں کی جاسکتی اگر ان کے مرنے سے ایک مذہب اور دین زندہ ہو جاتا ہے۔پس ہمارے نوجوانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے۔شمس صاحب پہلے مبلغ ہیں جو جنگ کے بعد مغرب سے واپس آئے۔یوں تو حکیم فضل الرحمان صاحب بھی مغرب میں ہیں۔مولوی محمد شریف صاحب بھی مغرب میں ہیں۔صوفی مطیع الرحمن صاحب بھی مغرب میں ہیں اور ہو سکتا تھا کہ کوئی اور پہلے آ جاتا۔ہم نے حکیم فضل الرحمان صاحب کو آج سے نو ماہ پہلے واپس آنے کا حکم دے دیا تھا مگران میں سے کسی کو واپس آنے کی توفیق نہیں ملی۔توفیق ملی تو شمس صاحب کو ملی تا اس ذریعہ سے رسول کریم ﷺ کی یہ پیشگوئی پوری ہو کہ جب آخری حملے کا وقت آئے گا اُس وقت شمس نامی ایک شخص مغرب سے مشرق کی طرف واپس آئے گا اور اس کے آنے کے ساتھ اسلام کے جارحانہ اقدام اور اس کے حملہ عظیمہ کی ابتدا ہوگی اور نو جوان ایک دوسرے کے پیچھے قربانی کے لئے بڑھتے چلے جائیں گے۔پروانہ کیسا بے حقیقت اور بے عقل جانور ہے مگر پروانہ بھی شمع پر جان دینے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔اگر پروانہ شمع کے لئے اپنی جان قربان کر سکتا ہے تو کیا ایک عقل مند اور باغیرت انسان خدا اور اس کے رسول کے لئے اپنی جان دینے کو تیار نہیں ہو گا ؟ اس کے بعد میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپ لوگوں کو بھی اسلام کی خدمت کی ذمہ داری ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دینے کا موقع دے تا کہ جب ہم خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوں تو ان مجرموں