زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 281

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 281 جلد دوم ہیں۔کیونکہ اگر وہ معنے خدا تعالیٰ کے مد نظر نہ ہوتے تو وہ ان معنوں کی ضرور تردید کرتا اور ایسے لفظ نہ بولتا جن سے نئے معنے تو پیدا ہوتے مگر وہ معنے اللہ تعالیٰ کے منشاء یا انسانی عقل کے خلاف ہوتے۔بہر حال اس موقع پر میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ رسول کریم ﷺ کی ایک حدیث میں اس زمانہ کے متعلق ایک اشارہ پایا جاتا ہے ( گو اس کے بعض اور معنے بھی ہیں ) رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ آخری زمانہ میں مغرب سے سورج کا طلوع ہوگا اور جب یہ واقعہ ہو گا تو اس کے بعد ایمان نفع بخش نہیں رہے گا۔2 الله 1934ء میں احرار نے ہمارے خلاف ایجی ٹیشن شروع کی اور انہوں نے دعوی کیا کہ ہم نے احمدیت کا خاتمہ کر دیا ہے۔اور 1934 ء سے ہی اللہ تعالیٰ نے جماعت کو ایک نئی زندگی بخشی اور اسے ایک ایسی طاقت عطا فرمائی جو اس سے پہلے اسے حاصل نہیں تھی۔اس نئی زندگی کے نتیجہ میں ہماری جماعت میں قربانی کا نیا مادہ پیدا ہوا، ہماری جماعت میں اپنے نفوس اور اپنے اموال کو خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کرنے کا نیا جوش پیدا ہوا اور ہماری جماعت میں دین اسلام کی خدمت اور اللہ تعالیٰ کے کلمہ کے اعلاء کے لئے باہر جانے کا نیا ولولہ اور نیا جوش موجزن ہوا۔چنانچہ پہلے بیسیوں اور پھر سینکڑوں نو جوانوں نے اس غرض کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا اور میں نے خاص طور پر ان کی دینی تعلیم کا قادیان میں انتظام کیا تا کہ وہ باہر جا کر کامیاب طور پر تبلیغ کرسکیں۔اس عرصہ میں جنگ کی وجہ سے ہمارے پہلے مبلغ با ہر رکے رہے اور نئے مبلغوں نے اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔یہاں تک کہ جنگ کے خاتمہ پر ہم نے ساری دنیا میں اپنے مبلغ اس طرح پھیلا دیئے کہ احمدیت کی تاریخ اس کی مثال پیش نہیں کر سکتی۔باقی مسلمانوں میں تو اس کی کوئی مثال تھی ہی نہیں۔ہماری جماعت میں بھی جو قربانی کی عادی ہے اس قسم کی کوئی مثال پہلے نظر نہیں آتی۔جب مبلغ تیار کر کے بیرونی ممالک میں بھیجے گئے تو خدا تعالیٰ کی مشیت اور رسول کریم ﷺ کی پیشگوئی کے ما تحت ہما را جولشکر گیا ہوا تھا اس میں سے سب سے پہلے شمس صاحب مغرب سے مشرق