زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 23

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 23 جلد دوم مولوی جلال الدین صاحب کو فخر کے طور پر خدا تعالٰی سے یہ بات ملی لیکن ابھی یہ ابتدائی چیز ہے حقیقی قربانیاں بہت بڑی ہوتی ہیں اور ان کے لئے بہت تیاری کی ضرورت ہوتی ہے میں امید رکھتا ہوں ہمارے مبلغین ان حقیقی قربانیوں کے لئے تیاری کریں گے۔بے شک ہماری جماعت میں قربانی کی روح ہے مگر اصلی دلیری ابھی تک پیدا نہیں ہوئی۔ایک دلیری جبر کے وقت کی ہوتی ہے۔مثلاً یہ کہ لوگ احمدیت چھڑانے کے لئے ماریں ، دکھ دیں، نقصان پہنچائیں مگر احمد ی کہیں ہم احمدیت ہر گز نہ چھوڑیں گے۔ایسے لوگوں کی تو کمی نہیں۔لیکن وہ جو خود خطرہ کے مقام پر جائیں اور کسی بات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے تبلیغ کریں ایسے کم ہیں۔میں سمجھتا ہوں إِلَّا أَنْ تَشَاءَ اللهُ 3 کی استثناء کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ سو میں سے سو مبلغ ہی ایسے ہوں گے کہ اگر احمدیت کی وجہ سے لوگ ماریں تو وہ کوئی پرواہ نہ کریں گے۔مگر سو میں سے دس بھی ایسے نہیں ہوں گے کہ خطرہ کے مقام پر خود جائیں اور وہاں کام کریں۔لیکن جب تک یہ دیوانگی پیدا نہ ہو گی ہم کامیاب نہ ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے:۔مجھے کیا معلوم ہے کہ ابھی کون کون سے ہولناک جنگل اور پر خار بادیہ در پیش ہیں جن کو میں نے طے کرنا ہے۔پس جن لوگوں کے نازک پیر ہیں وہ کیوں میرے ساتھ مصیبت اٹھاتے ہیں۔جو میرے ہیں وہ مجھ سے جدا نہیں ہو سکتے نہ مصیبت سے نہ لوگوں کے سب وشتم سے نہ آسمانی ابتلا ؤں اور آزمائشوں سے۔اور جو میرے نہیں وہ عبث دوستی کا دم مارتے ہیں۔4 پس جب تک ہمارے مبلغین اس بات کو مد نظر نہیں رکھتے اور وہی نہیں جنہوں نے خدمت دین کے لئے زندگی وقف کی ہوئی ہے بلکہ وہ بھی جنہوں نے انصار اللہ میں نام لکھائے ہیں یا اور دوسرے لوگ جو احمدیت میں داخل ہیں کہ لوگ ان کو مارتے جائیں اور وہ مار کھاتے جائیں لیکن تبلیغ احمدیت میں مصروف رہیں۔تصنع سے نہیں ، بناوٹ سے نہیں بلکہ ان کے دو