زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 269
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 269 جلد دوم افریقن ممالک میں بہت تھوڑے آدمیوں کے ذریعہ تبلیغ کی گئی ہے اور گو احمدیت میں داخل ہونے والوں میں سے کچھ مرتد بھی ہو گئے مگر پھر بھی اس وقت تک ساٹھ ہزار سے زیادہ آدمی وہاں احمدیت میں داخل ہو چکا ہے اور یہ صرف ایک دو مبلغوں کا کام ہے۔اگر ہم سو دو سو مبلغ وہاں بھجوا دیں تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ قریب ترین زمانہ میں وہاں ایک علاقے کا علاقہ احمدی ہو جائے۔اور یاد رکھو جب کوئی ایک ملک بھی ایسا پیدا ہو گیا جس کے متعلق دنیا کو معلوم ہو گیا کہ وہاں اسلام غالب ہے اور اس ملک کی اکثریت احمدیت میں داخل ہو چکی ہے تو پھر دنیا کا نقشہ بدل جائے گا۔کیونکہ کوئی ملک نہیں جسے دنیا نظر انداز کر سکتی ہے۔تجارتی لحاظ سے بھی اور قومی لحاظ سے بھی دنیا ہر ملک کی محتاج ہوتی ہے۔خواہ وہ کتنا ہی چھوٹے سے چھوٹا ملک کیوں نہ ہو۔جب دنیا کو معلوم ہو گیا کہ کسی ایک ملک میں بھی احمدیت کی اکثریت ہے اس کی نگاہیں ہماری طرف اٹھنی شروع ہو جائیں گی اور وہ اس بات پر مجبور ہوگی کہ احمدیت پر غور کرے۔غرض خدا نے ان افریقن ممالک کو احمدیت کے لئے محفوظ رکھا ہوا ہے اور اسلام کی ترقی کے ساتھ ان کا نہایت گہرا تعلق ہے۔ہمارا مستقبل افریقہ کے ساتھ وابستہ ہے۔افریقن ممالک میں دس پندرہ کروڑ کی آبادی ہے جو انہی حالات میں گزر رہی ہے جن میں سے رسول کریم ﷺ کی بعثت کے وقت عرب گزر رہا تھا۔وہ خشک لکڑیاں ہیں یا سوکھے ہوئے پتوں کے ڈھیر ہیں جو میلوں میں مختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔مگر ضرورت ان ہاتھوں کی ہے جو دیا سلائی لیں اور ان خشک لکڑیوں اور پتوں کے ڈھیروں کو جلا کر راکھ کر دیں۔ایسی راکھ جو دنیا کی نظر میں تو راکھ ہوگی لیکن خدا تعالیٰ کی نظر میں تریاق۔جو ایسے کیمیاوی مادے اپنے اندر رکھتا ہو گا کہ نہ صرف ان لوگوں کی زندگی کا باعث ہوگا بلکہ ساری دنیا کو زندہ کرنے کا ذریعہ بن جائے گا۔در اصل خدا تعالیٰ نے عین وقت پر مجھے اس طرف توجہ دلائی اور پھر اس نے محض اپنے فضل سے غیر معمولی ترقی کے دروازے اس ملک میں ہمارے لئے کھول دیئے۔شروع میں مجھے وہاں تبلیغ کا خیال محض اس وجہ سے پیدا ہوا کہ ہمارے دو مبلغ جو انگلستان