زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 262

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 262 جلد دوم خرچ کرتا ہے تو کیا وہ اس سے پہلے دوسرے کاموں پر اپنا روپیہ خرچ نہیں کرتا تھا ؟ ضرور کرتا تھا۔فرق صرف یہ ہے کہ اب وہ دین کے لئے خرچ کرتا ہے اور اس سے پہلے وہ فضول کاموں پر خرچ کرتا تھا۔ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ دین کے لئے روپیہ خرچ نہیں کرتے ان لوگوں کا روپیہ کسی دن کنچنی کے ناچ پر خرچ ہو رہا ہوتا ہے، کسی دن سینما اور سرکس دیکھنے پر خرچ ہو رہا ہوتا ہے۔کسی دن شہرت کی خاطر دعوتیں ہو رہی ہوتی ہیں۔اگر غور کیا جائے تو ہم لوگ جو دین کی خاطر اپنا روپیہ خرچ کرتے ہیں ہم ان لوگوں سے زیادہ خرچ نہیں کرتے جتنا کہ وہ لوگ سینما، سرکس اور اس قسم کے دوسرے فضول کاموں پر خرچ کرتے ہیں۔پس صرف روپیہ خرچ کرنے کی رو بدل دی گئی ہے۔وہ لوگ سینما اور سرکس کے لئے روپیہ خرچ کرتے ہیں اور احمدی خدا کی رضا کے لئے اور اس کے دین کی خدمت کے لئے روپیہ خرچ کرتے ہیں۔روپیہ خرچ کرنے کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں۔اسی طرح شکار کے لحاظ سے بھی اسلام نے اس جذبہ کو ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف بدل دیا ہے کہ بجائے تیتروں اور بٹیروں اور مرغابیوں کا شکار کرنے کے تم انسانوں کا شکار کیا کرو جن سے خدا بھی خوش ہوتا ہے۔پس اسلام انسان کی فطرت کو کچلنا نہیں چاہتا بلکہ فطرتی جذبہ کو بلند کرنا چاہتا ہے۔یہاں قادیان میں کئی آدمی ہیں جن کا کام یہ ہے کہ جس دن چھٹی ہوتی ہے کنڈی لے کر دریا پر مچھلیاں پکڑنے چلے جاتے ہیں۔بعض جن کے اندر اخلاص ہوتا ہے وہ جمعہ کی نماز سے پہلے واپس آجاتے ہیں اور بعض جمعہ بھی وہیں گزار دیتے ہیں۔حالانکہ مچھلی کیا ہے۔اگر نہ بھی کھائی جائے تو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔لیکن جو شخص بجائے مچھلی کا شکار کرنے کے انسان کا شکار کرتا ہے اور ایک بھولے بھٹکے انسان کو خدا کے دین میں لا کر داخل کرتا ہے وہ کتنا شاندار کام کرتا ہے۔اگر مسلمان اس کام کی اہمیت کو سمجھتے اور خرگوشوں اور بلوں اور گیدڑوں کا شکار کرنے میں اپنا وقت ضائع کرنے کی بجائے وہ تبلیغ کرتے تو ہندوستان میں لاکھوں مسلمان شکاری ہیں۔اگر یہی تعداد تبلیغ میں لگ جاتی تو آج ہندوستان میں ہندو مسلمان کا جھگڑا ہی مٹ جاتا۔اگر اتنے لوگ سال میں دو دو چار چار ہندوؤں کو