زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 253
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 253 جلد دوم کے لئے تیار ہو جائیں جیسی بیرونی ممالک کے مبلغین کرتے ہیں تو بہت جلد ساری جماعت میں صحابہ کا رنگ پیدا ہو سکتا ہے اور ہم مخالفین کو چینج کر سکتے ہیں کہ ہماری جماعت صحابہ کے رنگ میں رنگین ہے۔لیکن ابھی بعض دوستوں میں ایسے نقائص ہیں کہ اگر ہم یہ بات پیش کریں تو مخالف وہ نقائص پیش کر کے ہمیں ساکت کر دے گا۔ہماری جماعت کے نو جوانوں ، بچوں ، بوڑھوں، مردوں اور عورتوں سب کو چاہئے کہ خود بھی تحریک جدید پر عمل پیرا ہوں اور دوسروں سے بھی اس پر عمل کروائیں۔اپنی زندگیوں کو زیادہ سے زیادہ سادہ بنائیں، کھانے پینے ، پہنے میں سادگی پیدا کریں۔اپنے ماحول کو سادہ بنائیں، اپنی گفتگو میں سادگی اختیار کریں۔جب تک زندگی کے ہر شعبہ میں سادگی نہ اختیار کی جائے گی تبلیغ کما حقہ نہیں کی جاسکے گی۔جس شخص کی زندگی سادہ نہ ہو، وہ سادہ تمدن رکھنے والے لوگوں سے خطاب بھی نہیں کر سکتا۔وہ ان کو اپنی بات سمجھا نہیں سکتا اور ان تک اپنی آواز نہیں پہنچا سکتا۔اور اس طرح ان کی ہدایت کا موجب نہیں بن سکتا۔پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھا ہوا آدمی میدان میں بیٹھے ہوئے لوگوں سے کس طرح خطاب کر سکتا ہے۔آدمی انہی لوگوں سے بات چیت کر سکتا ہے جو اس کے سامنے ہوں۔جو پہاڑ پر بیٹھا ہوا ہو اس کو نیچے کا گاؤں نظر تو آ سکتا ہے مگر وہ گاؤں کے لوگوں سے بات چیت نہیں کر سکتا۔اسی طرح جن لوگوں کا تمدن بلند ہو، سادہ تمدن کے لوگوں کے ساتھ ایسا تعلق نہیں رکھ سکتے جو تبلیغ کے لئے ضروری ہے۔اور یہ تعلق قائم نہیں ہو سکتا جب تک کہ دوسروں کا تمدن بھی ویسا ہی بلند نہ ہو جائے یا اونچا تمدن رکھنے والے سادگی اختیار کر کے نیچے نہ آجائیں۔اور جب تک ہم تمدنی لحاظ سے دوسروں کو اوپر نہیں لے جا سکتے اُس وقت تک ہم کو چاہئے کہ خود نیچے آجائیں۔ہاں جب سب لوگ اوپر آجائیں تو ہم بھی اوپر آ سکتے ہیں۔اسلام مساوات چاہتا ہے اور اس کی یہی صورت ہے کہ یا سادہ تمدن رکھنے والوں کو اوپر لایا جائے اور اگر یہ نہ ہو سکے تو دوسرے اور زیادہ سادگی اختیار کریں۔اگر کوئی جماعت چاہتی ہے کہ معیار زندگی کو بلند کرے تو اسے کوشش کرنی چاہئے کہ دوسروں کا معیار زندگی بھی بلند ہو۔اور جب