زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 252

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 252 جلد دوم کرتے ہیں۔مکئی کا دلیا یا جنگلی درختوں کے پھل یا ایسی ہی دوسری چیزیں ان کو کھانے کے لئے میسر آتی ہیں۔کھانے پینے کی اشیاء کی جو کثرت یہاں ہے وہاں نہیں ہے۔اس کے علاوہ ملیر یا وہاں اس کثرت سے ہوتا ہے کہ شاید یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ وہ ملک ملیریا کا گھر ہے۔پھر سینکڑوں میل کے کئی علاقے وہاں ایسے ہیں کہ جہاں سڑک وغیرہ کا نام تک نہیں اور جہاں سواری کا ملنا مشکل ہوتا ہے۔آج ہی مجھے وہاں کے ایک مدرس کا خط ملا ہے اس نے دعا کے لئے لکھا ہے اور اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ یہاں جو مبلغ تبلیغ کا کام کرتے ہیں وہ ایسی قربانی کر رہے ہیں کہ مقامی لوگوں کو ان کی طرف دیکھ کر اپنی حالت پر افسوس آتا اور حسرت ہوتی ہے۔ان کو سینکڑوں میل ایسے جنگلوں میں سفر کرنا پڑتا ہے کہ جہاں رستہ بھی نہیں ملتا اور ایسی غذا کھانی پڑتی ہے کہ جس کا کھانا بہت مشکل ہوتا ہے۔اس نے مجھے لکھا ہے کہ آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔یہ عجیب بات ہے کہ آج ہی یہ دونوں چیزیں مجھے ملی ہیں یعنی پہلے مبلغ کے بخیریت پہنچنے کی اطلاع اور ایک مقامی مدرس کا خط جبکہ نئے جانے والے مبلغوں کو یہ آخری پارٹی دی جارہی ہے اور وہ کل روانہ ہور ہے ہیں۔احمدیت کے آج بہت مخالف ہیں اور یہ مخالف ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔یہ مخالف ہمارے ہر کام میں نقائص نکالتے ہیں اور وہ اس بات کو نہیں دیکھتے کہ حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام کے طفیل آج دنیا میں ایک ایسی جماعت پیدا ہو گئی ہے جو اسلام کی خاطر وہ تمام مصائب برداشت کر رہی ہے جو صحابہ نے کیں۔مگر ابھی جماعت میں بھی ایک ایسا طبقہ ہے جو قربانی کرنے میں ست ہے۔اگر ایسے مصائب جو بیرونی ممالک کے مبلغین برداشت کر رہے ہیں ساری جماعت اٹھانے کے لئے تیار ہو جائے تو ہم دلیری سے کہہ سکتے ہیں کہ ہماری جماعت صحابہ کے نقش قدم پر چلنے والی ہے۔اگر جماعت کے سب دوست دین کے لئے ویسی ہی قربانیاں کرنے اور ویسی ہی تکالیف برداشت کرنے