زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 249
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 249 جلد دوم غرض میں نے آج کی تقاریر سے یہ اندازہ لگایا ہے کہ ہمارے ان تینوں جانے والے نو جوانوں کو ابھی تقریر کے میدان میں بہت بڑی مشق کی ضرورت ہے۔مجھ پر ان کی تقریریں سن کر یہ اثر ہوا ہے کہ انہوں نے اس رنگ میں تو تقریر کرنا سیکھ لیا ہے کہ بات کرتے جائیں اور وقت کو گزار دیں۔خواہ وہ بات کیسی ہی بے جوڑ کیوں نہ ہو۔مگر یہ بات ابھی تک انہوں نے نہیں سیکھی کہ جو کچھ کہنا ہوا سے صحیح طور پر مسلسل اور مربوط طریق پر بیان کریں اور اپنے مدعا اور مقصود کو واضح رنگ میں پیش کریں۔اس کے لئے ابھی انہیں بہت بڑی مشق کی ضرورت ہے۔اور چونکہ مغربی افریقہ میں پہنچتے ہی انہیں مختلف جگہوں پر مقرر کر دیا جائے گا اس لئے میں انہیں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ انہیں سوچ کر اور سمجھ کر گفتگو کرنے اور سوچ کر اور سمجھ کر تقریر کرنے کی عادت پیدا کرنی چاہئے۔اور تقریری سے پہلے اپنے سامنے کوئی مضمون رکھ لینا چاہئے کہ فلاں بات ہم نے بیان کرنی ہے اور پھر اپنی تقریر کو اسی کے ارد گرد چکر دینے ہیں۔بے شک ماہر فن ایک چھوٹی سی بات کو بھی بڑھا لیتا ہے اور کئی کئی رنگ میں اسے بیان کر سکتا ہے مگر شروع میں صرف اپنا مقصد سامنے رکھنا چاہئے اور اسی کو محفوظ الفاظ میں بیان کر دینا چاہئے۔زائد باتیں بیان نہیں کرنی چاہئیں کیونکہ اس طرح مطلب خبط ہو جاتا ہے۔جب وہ اس فن میں ماہر بن جائیں گے تو رفتہ رفتہ وہ بھی اپنے مضمون کو بڑھا چڑھا کر بیان کر سکتے ہیں۔جیسے گھوڑے کی سواری میں جو شخص ماہر ہو وہ مضبوطی سے اس کی پیٹھ پر بیٹھا رہتا ہے اسے خطرہ نہیں ہوتا کہ اگر میں نے بے توجہی کی تو گھوڑے سے گر جاؤں گا مگر جو شخص نیا نیا گھوڑا چلانا سیکھ رہا ہو وہ باگوں کو اپنے ہاتھ میں پکڑنے کے باوجود گھوڑے کو قابو میں نہیں رکھ سکتا۔پس بے معنے تقریر کرنے کی بجائے سوچ سمجھ کر تقریر کرنی چاہئے اور یہ سمجھ لینا چاہئے کہ لمبی مگر بے جوڑ تقریر سے وہ تقریر بدر جہا بہتر ہوتی ہے جو گو مختصر ہو مگر اس میں اپنے مقصد کو پوری طرح بیان کر دیا گیا ہو۔پس ابتدا میں انہیں مختصر مگر با معنی تقریر کرنے کی مشق کرنی چاہئے اور ایک معین مقصد اپنے سامنے رکھ لینا چاہئے۔لفاظی یا تشریحات کی طرف نہ جائیں بلکہ اسی مقصد کو