زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 246
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 246 جلد دوم کی طرف رجوع کریں یا ان مضامین کو پڑھیں جو سلسلہ کی طرف سے شائع ہوتے ہیں اور جو جواب ان میں لکھا ہو صرف اس کو پیش کریں اپنی طرف سے کوئی نیا جواب دینے کی کوشش نہ کریں۔ابھی آپ لوگ نئے جواب دینے کے اہل نہیں ہیں۔تین چار سال کے بعد جب آپ لوگ واپس آئیں گے تو پھر آپ کو نئے سرے سے تعلیم دلا کر وہاں تبلیغ کے لئے بھجوایا جائے گا۔اسی طرح ایک دو سفروں کے بعد آپ اس قابل ہو سکیں گے کہ نئے جواب بھی لوگوں کو دے سکیں بانٹے استدلال کر سکیں۔ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے ایک مبلغ نے بتایا کہ میں فلاں بات کے متعلق یوں استدلال کیا کرتا ہوں حالانکہ وہ استدلال خطر ناک طور پر غلط تھا۔پس آپ لوگ یہ غلطی نہ کریں کہ اپنی طرف سے نئے نئے استدلال شروع کر دیں۔ابھی آپ لوگوں کا یہی کام ہے کہ جو جوابات سلسلہ کی طرف سے شائع ہو چکے ہیں انہیں کو پیش کریں نیا استدلال کرنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ ابھی آپ لوگ اس کام کے اہل نہیں ہیں۔بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان ایک بات کے متعلق خیال کرتا ہے کہ وہ ایک نیا نکتہ ہے جو اسے سوجھا ہے مگر در حقیقت وہ نکتہ نہیں ہوتا بلکہ ایک غلط استدلال ہوتا ہے۔اس قسم کی غلطیوں سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ پہلوں کی نقل کریں نقل کریں اور پھر نقل کریں۔اور اگر کسی سوال کا جواب بالکل سمجھ میں ہی نہ آئے تو قادیان سے اس کا جواب منگوایا جائے یا آپ لوگوں کے قریب ہی مولوی جلال الدین صاحب شمس رہتے ہیں ان سے دریافت کر لیا جائے۔بے شک اس میں کسی قدر وقت ہو گی مگر سردست آپ لوگوں کے لئے سلامتی کی راہ یہی ہے کہ پہلوں کی نقل کریں اور تعاون کا مادہ اپنے اندر پیدا کریں۔پہلے مبلغین ایک دوسرے کے ساتھ پوری طرح تعاون کرتے ہوئے اپنے افسر کی کامل اطاعت کرتے رہے ہیں۔اگر کسی وجہ سے وہاں کے کسی مبلغ کو واپس بلا لیا جائے اور آپ لوگوں میں سے کسی کو افسر بنا دیا جائے یا کسی اور کی ماتحتی میں کام کرنے کی ہدایت دی جائے تو آپ لوگوں کو یا د رکھنا چاہئے کہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر کسی وقت تم پر کوئی حبشی افسر مقرر کیا جائے جو نسلاً بعد نسل حبشی ہو اور کم عقل ہو اتنا کہ اس کا