زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 243

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 243 جلد دوم گریجوایٹ مبلغ بھجوائے جائیں جو وہاں ہائی سکول قائم کریں تا کہ احمدی نوجوان بھی ملازمت کے حصول کے لئے دوسروں سے پیچھے نہ رہیں۔ہم یہ امید آپ لوگوں سے تو نہیں کر سکتے جو اس وقت وہاں تبلیغ کے لئے جا رہے ہیں ہاں ہم یہ امید آپ سے ضرور کرتے ہیں کہ آپ بعد میں آنے والوں کے لئے ابھی سے میدان تیار کرنا شروع کر دیں گے اور ایسی جماعت پیدا کرنے کی کوشش کریں گے جو قربانی کرنے والی ہو اور ہائی سکول کا بوجھ برداشت کرنے کے لئے تیار ہو۔اگر ہم تین چار بی۔اے پاس احمدی نوجوان یہاں سے بھجوائیں یا کسی ایسے نوجوان کو بھیجوائیں جو ولایت کا پاس شدہ گریجوایٹ ہو تو یہ لازمی بات ہے کہ اخراجات زیادہ ہوں گے اور اس کے لئے آپ لوگوں کی قربانی کی ضرورت ہو گی۔آپ لوگ مالی لحاظ سے تو کوئی قربانی نہیں کر سکتے لیکن آپ یہ قربانی کر سکتے ہیں کہ تبلیغ کے لئے ویسی ہی جفاکشی کا نمونہ دکھائیں جیسے مغربی افریقہ میں مبلغین دکھا چکے ہیں بلکہ ان سے بھی بڑھ کر جفاکش اور محنتی بنیں۔انہوں نے ایسے ایسے جنگلوں میں پیدل سفر کئے ہیں جہاں خود اس ملک کے باشندے جاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔چنانچہ مغربی افریقہ میں ہمارے مبلغ ایسے ایسے پُر خطر جنگلات میں سے پیدل سفر کرتے ہوئے تبلیغ کے لئے گئے ہیں جہاں سپاہی بھی جانے سے گھبراتے ہیں۔اور بعض جگہ تین تین چار چار سو میل لمبا سفر انہیں پیدل طے کرنا پڑا ہے۔پھر وہ علاقہ ایسا گرم ہے کہ ہمارے ملک کی گرمی کی اس کے مقابلہ میں کوئی نسبت ہی نہیں۔اندرون ملک میں پانچ پانچ ، چھ چھ سو میل لمبے علاقے ایسے ہیں جہاں لاریاں بھی نہیں چلتیں اور جہاں کھانے کے لئے بھی کوئی اچھی چیز میسر نہیں آتی۔صرف اسی طرح گزارہ ہو سکتا ہے کہ کبھی گرم پانی میں جو یا مکئی کا آٹا بھگو کر کھا لیا اور کبھی درختوں کے چھوٹے چھوٹے پھل جو نہایت تلخ اور بدمزہ ہوتے ہیں کھا لئے۔مگر ان تمام مشکلات کے باوجود ہمارے مبلغین نے ہفتوں پیدل سفر کیا اور لوگوں کو پیغام حق پہنچایا۔یہ معیار ہے جو ان مبلغین نے قائم کیا ہے۔اس معیار کو نہ صرف قائم رکھنا بلکہ بڑھانا اور ترقی دینا آپ کا کام ہے۔یورپین لوگ جو تعیش کے