زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 239
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 239 جلد دوم ہیں۔چنانچہ ایک علاقہ کے متعلق میرے پاس رپورٹ پہنچی کہ اس نے سال بھر میں چھپیں ہزار روپیہ تبلیغ اور تعلیم پر خرچ کیا ہے۔در حقیقت مغربی افریقہ کے تین ممالک یعنی سیرالیون ، گولڈ کوسٹ اور نائیجیریا ایسے ملک ہیں جو برطانوی ایمپائر میں ہندوستان کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں کیا بلحاظ علاقہ کی وسعت کے اور کیا بلحاظ مسلمانوں کی تعداد کے۔ہندوستان میں آٹھ دس کروڑ کی تعداد میں مسلمان پائے جاتے ہیں۔اور اس سے اتر کر انگریزی حکومت کے ماتحت صرف مغربی افریقہ میں ہی مسلمان آباد ہیں ایسے علاقہ کی اہمیت کا انکار کسی صورت میں بھی نہیں کیا جا سکتا۔اگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں احمدیت مضبوط بنیادوں پر قائم ہو جائے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ صدائے بازگشت کے طور پر مغربی افریقہ کا یقیناً دوسرے ممالک پر بھی اثر پڑے گا۔مزید خوبی اس جگہ کے رہنے والوں میں یہ پائی جاتی ہے کہ وہ جلد جلد بوجھ برداشت کرنے کی طاقت اپنے اندر پیدا کر لیتے ہیں۔یہ ایک وسیع علاقہ ہے جو کئی ہزار میل میں پھیلا ہوا ہے اور دو کروڑ کے قریب مسلمان اس میں پائے جاتے ہیں۔ایسے وسیع علاقہ میں ہم تبلیغ کر رہے ہیں۔مگر علاقہ کی اس قدر وسعت کے باوجود ہمارا خرچ بہت قلیل ہے۔اور پھر جس رنگ میں ہمیں وہاں کامیابی حاصل ہو رہی ہے اس کا ثبوت اس امر سے مل سکتا ہے کہ اب تک ساٹھ ستر ہزار افراد پر مشتمل جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے وہاں پیدا ہو چکی ہے۔بلکہ گزشتہ دنوں میں ایک سالانہ جلسہ کے موقع پر وہاں کئی ہزار صرف جماعتوں کے نمائندے ہی اکٹھے ہوئے۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں ہماری جماعت خدا کے فضل سے کس قدر پھیلی ہوئی ہے۔خرچ نہایت معمولی ہے۔آئندہ کے متعلق بھی وہ وعدہ کرتے ہیں کہ اگر ہمارے مبلغ جائیں تو صرف چھ ماہ تک ان کے اخراجات مرکز برداشت کرے چھ ماہ کے بعد جماعتیں ان کا بوجھ خود اٹھائیں گی۔پھر خدا تعالیٰ کے فضل سے تبلیغی اخراجات کا بوجھ ہی برداشت نہیں کرتے بلکہ مختلف جگہوں پر انہوں نے اپنے خرچ سے مساجد بھی قائم کی ہیں اور اب تک تمیں چالیس کے قریب چھوٹی بڑی مسجد میں وہ قائم کر چکے ہیں۔بلکہ ابھی پچھلے دنوں