زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 19
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 19 جلد دوم تبلیغ احمدیت کے متعلق ضروری ہدایات حضرت مولوی جلال الدین صاحب شمس کی کامیاب واپسی کی خوشی میں نظارت دعوت و تبلیغ نے جو دعوت چائے دی اس میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے بھی شمولیت فرمائی۔اس موقع پر حضور نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل خطاب فرمایا:۔پہلے تو میں اپنے بعض دوستوں کو خصوصاً مولوی ابو العطاء صاحب کو مدنظر رکھتے ہوئے اور شاید اور دوست بھی عربی ممالک میں جائیں اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جب ہم غیر ممالک میں آدمی بھیجتے ہیں تو ایک غرض یہ بھی ہوتی ہے کہ ان ممالک کی زبانیں اس رنگ میں سیکھیں جس رنگ میں وہ لوگ خود بولتے ہیں اور جو ان کے بولنے کا حق ہے۔ہمارے ملک میں عربی زبان کی قدر کتابوں تک ہی رہی ہے جس کا خمیازہ ہم سب بھگت رہے ہیں۔عربی کی تعلیم میں یہ مدنظر نہیں رکھا جاتا کہ اس زبان میں کلام کر سکیں۔ہمارے ہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریک کی وجہ سے اتنی بات پیدا ہو گئی ہے کہ عام طور پر عربی دان عربی میں گفتگو کر لیتے ہیں اور ایسی گفتگو کر سکتے ہیں جو دوسرے علماء ان سے زیادہ عربی کی تعلیم رکھنے والے بھی نہیں کر سکتے۔لیکن لیکچر اور خطبہ کا ابھی تک پورا انتظام ہمارے ہاں بھی نہیں ہے۔سوائے اس کے کہ وقتی طور پر کوئی تیاری کر لے۔اس صورت میں تکلف سے کام لینا پڑتا ہے اور مفہوم کے مطابق الفاظ استعمال نہیں کئے جاتے بلکہ الفاظ کے ماتحت مفہوم کر دیا جاتا ہے۔لیکن اگر الفاظ مفہوم پر غالب آ جائیں اور مفہوم دب کر رہ جائے تو ہم لیکچر نہیں دیتے بلکہ اشارے کرتے ہیں۔اور اگر اشارے ہی کرنے