زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 232

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 232 جلد دوم کے ممنونِ احسان نہیں مگر احمدیت کے ضرور ممنونِ احسان ہو۔اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ تمہاری گردنیں کسی انسان کے سامنے نہیں جھک سکتیں مگر تمہیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ یہ سب کچھ تمہیں احمدیت کی وجہ سے ملا ہے۔ایک اور بات جو یاد رکھنے کے قابل ہے وہ یہ ہے کہ تمہیں ہمیشہ غرباء سے ملتے رہنا چاہئے۔ہماری جماعت کا بڑا حصہ چونکہ غرباء پر مشتمل ہے اس لئے ان سے ملنا ضروری ہے۔اگر تم ان میں مل کر رہو اور ان کی تربیت کا کام کرو تو تم حقیقی عزت حاصل کر سکتے ہو۔ایاز ایک مشہور جرنیل محمود غزنوی کا تھا۔لوگوں نے محمود کے پاس اس کی شکایتیں کیں۔ایاز ایک غلام تھا مگر اس نے اپنی ذہانت اور قابلیت کی وجہ سے ترقی کی اور بڑھتے بڑھتے جرنیل ہو گیا حتی کہ وہ فنانس منسٹر (وزیر خزانہ ) ہو گیا۔لوگوں کو کچھ حسد تھا اس لئے انہوں نے محمود کے پاس شکایتیں کیں کہ وہ رات کو ہمیشہ اکیلا خزانے میں جاتا ہے اور قیمتی اشیاء وہاں سے چرا لیتا ہے۔یہ شکایتیں محمود کے پاس اس کثرت سے پہنچیں کہ اسے ایاز پر کی بدظنی ہوگئی۔ایک دن بادشاہ رات کے وقت خزانہ میں داخل ہو گیا اور باہر سے تالا لگوا دیا اور ایک پوشیدہ جگہ پر چھپ کر بیٹھ گیا۔اس کے بعد ایاز آیا اور اندر داخل ہو گیا۔بادشاہ کی کی بدظنی اور بھی بڑھ گئی اور سمجھا کہ لوگوں کی شکایتیں صحیح ہیں مگر اس نے اپنے دل میں کہا کہ ابھی دیکھنا چاہئے کہ یہ کیا کرتا ہے۔ایاز نے ایک کنجی لی اور اس سے ایک ٹرنک کھولا ، پھر اس میں سے ایک اور صندوقچی نکالی اور اسے کھولا اور اس میں سے ایک بغچہ 5 نکالا جس کے اندر ایک پھٹی ہوئی گدڑی تھی۔ایاز نے اپنا شاہی لباس اتارا اور وہ گدڑی پہن لی۔اس کے بعد اس نے مصلی بچھایا اور نماز پڑھنی شروع کر دی۔اور اس نے نماز میں رورو کر اللہ تعالیٰ سے کہا کہ اے خدا! میں اس گدڑی میں اس شہر میں داخل ہوا تھا اور آج تو نے اپنے فضل سے مجھے وزارت کا عہدہ عطا فرمایا ہے اور اتنی عزت دی ہے کہ اس جگہ پر آنے سے مجھے محمود غزنوی کے سوا اور کوئی نہیں روک سکتا۔میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے مجھے اپنے فضل سے اس مقام پر پہنچایا ہے اور اے خدا! تو مجھے اس بات کی بھی توفیق