زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 230
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 230 جلد دوم تم احمدی ہونے کے سوا کسی اور وجہ سے کسی قسم کی فضیلت دوسروں پر نہیں رکھتے۔جو دوسروں کا مارا ہوا شکار کھا تا ہے وہ معزز نہیں ہوتا۔میرے کسی فعل کی وجہ سے یا جو عزت اللہ تعالیٰ نے مجھے دی ہے اس کی وجہ سے صرف تمدنی طور پر تمہیں فائدہ ہو سکتا ہے ورنہ حقیقی طور پر اس میں تمہارا کوئی حصہ نہیں۔یہ چیزیں حقیقی طور پر صرف میری ذات سے وابستہ ہیں۔مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیٹا ہونے کی وجہ سے حقیقی طور پر عزت حاصل نہیں۔وہ عزت تو تب ہوتی اگر میں اُن کی ماموریت میں شریک ہوتا۔اور میں اُن کی ماموریت میں شریک نہیں اور نہ کوئی شریک ہو سکتا ہے۔البتہ تمدنی حیثیت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیٹا ہونے کی وجہ سے لوگ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔پس لوگوں کے اندر اپنے متعلق جذبہ محبت پیدا کرنے کیلئے تم اپنے اندر کمال پیدا کرو۔میرے اندر کوئی کمال ہے تو اس سے حقیقی طور پر تم فائدہ نہیں اٹھا سکتے وہ چیز تو فیلی ہے۔ایک شخص جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عزت کرتا ہے ہماری بھی عزت کرے گا یا میری خلافت کی وجہ سے جن لوگوں میں جذبہ محبت پایا جاتا ہے وہ تم سے میری اولا د ہونے کی وجہ سے محبت کریں گے مگر یہ محبت اور یہ عزت طفیلی چیز ہے۔یہ محبت اور عزت تو ایسی ہی ہے جیسے کسی بڑے افسر کے چپڑاسی کی عزت کی جاتی ہے۔اس کا علم ان لوگوں کو ہوتا ہے جو افسروں سے ملتے ہیں۔بڑے بڑے نواب افسروں کو ملنے جاتے ہیں تو چپڑاسی بہت بری طرح ان سے پیش آتے ہیں حالانکہ ان کی کوئی پوزیشن نہیں ہوتی اور خصوصاً چھوٹے افسروں کو تو وہ بہت ذلیل کرتے ہیں۔جب کسی ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو ماتحت افسر ملنے آتے ہیں تو چپڑاسی انہیں تنگ کرتے ہیں اور بعض دفعہ شور مچانا شروع کر دیتے ہیں کہ ہم کیا کریں، صاحب کام کر رہے ہیں یا سو رہے ہیں۔اُس وقت ایک چپڑاسی بھی حکومت جتا رہا ہوتا ہے مگر تم جانتے ہو کہ وہ کس قدر حقیر بات کہہ رہا ہوتا ہے اور دوسرے لوگ اُس کو کس قدر ذلیل سمجھ رہے ہوتے ہیں۔پس ایسی عزت بھی جو دماغ پر برا اثر ڈالے کوئی عزت نہیں بلکہ لوگ ایسے شخص کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔پس جیسے کسی