زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 229

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 229 جلد دوم ہو جاتے تھے۔جب ہم ایک اسٹیشن پر پہنچے تو چند مستورات ہمارے کمرے میں داخل ہوئیں۔وہاں بڑے آدمی کو پرنس یعنی شہزادہ کہتے ہیں مجھے اس کا علم نہیں تھا۔ان مستورات نے مجھ سے پوچھا کہ پرنس جو ہندوستان سے آیا ہے وہ کہاں ہے؟ میں نے انہیں کہا مجھے تو علم نہیں۔وہ عورتیں چلی گئیں اور تھوڑی دیر کے بعد واپس آئیں اور کہنے لگیں آپ نے ہم سے دھوکا کیا ہے آپ ہی تو پرنس ہیں۔میں نے انہیں کہا کہ مجھے تو اس کا علم نہیں تھا۔انہوں نے اخباروں میں مجھے میری تصاویر دکھائیں جن کے نیچے پرنس لکھا ہوا تھا۔ان مستورات نے میرا لباس دیکھ کر ہنسنا شروع کیا تو وہ انگریز جو اصل میں تو یونانی تھا اور لمبے عرصہ سے انگلستان میں رہنے کی وجہ سے انگریزی تمدن اختیار کر چکا تھا اس کے منہ سے غصہ کی وجہ سے جھاگ نکلنے لگ گئی اور کہنے لگا کہ یہ لوگ کس قدر نالائق ہیں ان کو بات کرنی نہیں آتی۔وہ غصہ میں اس قدر بڑھ گیا کہ قریب تھا کہ وہ اُن سے لڑ پڑتا۔میں نے فرانسیسی کو جو میرے پاس ہی بیٹھا تھا کہا اس کو سمجھائیں کہ یہ مجھے دیکھنے آئی ہیں نہ کہ تمہیں، تمہیں کیوں اس قدر غصہ آتا ہے۔تھوڑی دیر کے بعد اس فرانسیسی نے دو لفافے جن میں میوہ تھا نکالے اور کہا کہ کھائیے۔اُس نے بہت اصرار کیا کہ ضرور کھاؤ۔وہ انگریز پھر لالی سرخ ہو گیا کہ یہ کس قدر بد تہذیب ہے ایک تو واقف نہیں دوسرے بے وقت چیز کھاتا ہے۔اسی طرح امریکہ اور یورپ کے دوسرے ممالک کا تمدن علیحدہ علیحدہ ہے۔ہمارا تمدن ، اسلامی تمدن ہے اور وہی حقیقی تمدن ہے جسے رائج کرنا چاہئے۔پھر میں ناصر احمد اور مبارک احمد کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان کے لئے ملازمت کرنے کے بغیر ہی دین کی خدمت کرنے کے مواقع موجود ہیں۔انہیں ان مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور سب سے پہلی بات جو ان کو یا د رکھنی چاہئے وہ یہ ہے کہ ان کا سب سے بڑارتبہ احمدی ہونے کا ہے۔وہ لوگ جھوٹے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نے جماعت کی دولت لوٹ لی ہے اور وہ لوگ بھی جھوٹے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نواب زادے ہیں۔یہ دونوں قسم کے لوگ جھوٹے ہیں۔ہم نے کبھی کسی کا روپیہ نہیں کھایا اور نہ ہی ہم نواب زادے ہیں۔پس