زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 227

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 227 جلد دوم اس ایڈریس میں مظفر احمد سَلَّمَهُ رَبُّہ کی آمد اور اس کی کامیابی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔میں اس موقع پر انہیں ان کے ہی ایک قول کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جو انہوں نے کچھ عرصہ پہلے کہا تھا۔پہلے وہ زبانی تھا اور اب اس پر عمل کرنے کا وقت آ گیا ہے۔مظفر احمد جب آئی ہی۔ایس میں کامیاب ہوئے اور انہوں نے یہ محسوس کیا کہ نوکری انہیں پسند نہیں تو انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ استعفیٰ دینے کے لئے تیار ہیں۔مگر انہیں یا درکھنا چاہئے کہ اسلامی تعلیم یہ نہیں کہ ہم دنیا کو چھوڑ کر بزدلی سے ایک طرف ہو جائیں۔ہم دنیا میں جس غرض کے لئے کھڑے ہوئے ہیں اس کے لئے بحیثیت جماعت ہم پر فرض ہے کہ ہم دنیوی طور پر بھی سلسلہ کے اصولوں کی خوبیاں ثابت کریں۔اور اگر ہم دنیا کو چھوڑ کر الگ ہو جائیں تو پھر ہم اپنے اصولوں کی خوبیاں ثابت نہیں کر سکتے۔پس ہمیں ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو اس رنگ میں بھی دنیا میں اپنے اصول کی خوبیاں ثابت کریں۔ملازمت کرنا کوئی معیوب امر نہیں بلکہ اگر کوئی شخص بلا وجہ ملازمت کو ترک کر دیتا ہے تو ایسے آدمی کی قربانی کوئی بڑی قربانی نہیں کہلا سکتی۔البتہ وہ شخص جسے سچ بولنے کی عادت ہو اور اُس کا طریق کار انصاف پر مبنی ہو ، اگر اُس سے ظلم کروانے اور جھوٹ بلوانے کی کوشش کی جائے اور ایسا شخص نوکری چھوڑ دے تو اس کی قربانی حقیقی قربانی ہوگی کیونکہ اُس نے تقویٰ کو مدنظر رکھتے ہوئے ملازمت کو ترک کیا ہے۔ایک اور بات یہ بھی مد نظر رکھنی چاہئے کہ جب کسی کو کوئی اعلیٰ ملازمت ملتی ہے تو اُس میں ایک قسم کا کبر پیدا ہو جاتا ہے مگر ایک احمدی کو ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ہماری جماعت میں کمزور لوگ بھی ہیں اور غریب بھی ہیں۔ترقی ملنے سے بعض لوگوں میں کبر اور غرور پیدا ہو جاتا ہے اور وہ غریبوں سے ملنا عار سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ایسے لوگ در حقیقت انسانیت کی سے بھی جاتے رہتے ہیں۔پس پہلی ذمہ داری جو ان پر عائد ہوتی ہے وہ احمدیت کی ہے۔احمدیت کا کام ساری دنیا میں انصاف قائم کرنا ہے۔اور پھر ایک احمدی دوسرے احمدی کا