زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 221
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 221 جلد دوم ہے جس کی وجہ سے ان کے اخلاق پر برا اثر پڑ جاتا ہے۔بعض دفعہ گھر سے ایسی تشویشناک خبریں موصول ہوتی ہیں جو انسان کے لئے ناقابل برداشت ہوتی ہیں۔عام لوگ ان مشکلات کو نہیں سمجھتے جو ایک مبلغ کو پیش آتی ہیں۔بسا اوقات مبلغ کو ایسی قربانیاں کرنی پڑتی ہیں جو عام لوگ نہیں کر سکتے بلکہ اکثر اوقات اسے ایسی قربانیاں کرنی پڑتی ہیں جو دوسروں کے لئے ناممکن ہوتی ہیں۔جماعت کے کئی آدمی ان قربانیوں کی حقیقت کو نہیں سمجھتے اور وہ گھر میں بیٹھے بیٹھے اعتراض کر دیتے ہیں۔اگر وہ ان قربانیوں کی حقیقت کا اندازہ لگائیں تو وہ مبلغوں کے ممنون ہوں۔کئی دفعہ ان کو اپنے گھروں سے پریشان کرنے والی خبریں ملتی ہیں اور وہ اپنی سمجھ کے مطابق ہدایات بھی دیتے ہیں مگر چونکہ خطوط کے پہنچنے میں ایک ایک دو دو مہینے لگ جاتے ہیں ان کو فکر ہوتا ہے کہ ان کی ہدایات کے پہنچنے سے پہلے ان پر کیا گزرتی ہوگی۔انہیں اپنے بھائیوں کا فکر ہوتا ہے، اپنے بچوں کی تعلیم اور تربیت کا فکر ہوتا ہے۔اس قدر لمبے فاصلہ کو جانے دو تم اتنے فاصلہ کا ہی اندازہ لگا لو جو محلہ دار الفضل اور مدرسہ احمدیہ کے درمیان ہے۔اگر اتنے معمولی فاصلہ سے ہی تم میں سے کسی کو اپنے عزیز کے متعلق کوئی تشویشناک اطلاع ملے تو تم اس قدر گھبرا جاتے ہو کہ کسی سے بات تک کر نا پسند نہیں کرتے۔اور اگر راستے میں کوئی شخص تم سے بات کرنا چاہے تو تم جھٹ اس کو روک دو گے اور کہو گے کہ مجھے ایک ضروری کام ہے میں اس وقت بات نہیں کر سکتا۔اگر تمہاری یہ حالت اس تھوڑے سے فاصلہ پر ہو جاتی ہے تو پھر ان کا اندازہ کرو جو ہزاروں میل اپنے گھروں سے دور ہوتے ہیں۔ان کے خاندان میں بھی وہی مشکلات پیش آتی ہیں جو تمہیں پیش آتی ہیں۔ایسی پریشان کن خبریں ان کو بھی اپنے عزیزوں کی طرف سے ملتی ہیں جیسے تمہیں ملتی ہیں مگر تم چند منٹ کے فاصلہ پر ہونے کے باوجود کسی سے بات کرنا پسند نہیں کرتے اور اگر کوئی راستہ میں تم سے بات کرنا چاہے تو تم اس کو روک دیتے ہو تو پھر ان کی کیفیت کا اندازہ لگاؤ جو ہزاروں میل کے فاصلہ پر ہوتے ہیں اور جو اپنی خانگی پریشانیوں کا کوئی علاج نہیں کر سکتے۔