زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 220
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 220 جلد دوم ہوتا ہے اس حکم کے دائرے سے خارج ہیں۔صرف وہی مسابقتیں اور مقابلے جائز اور درست اور مفید ہیں جن کے نتیجے خیر اور نیکی پیدا کرتے ہیں۔پس گو یہ ادارے مختلف ہیں رحقیقت میں ایک ہی ہیں۔یہ جماعت کی ضرورتیں ہیں جن کو مختلف شکلیں دی گئی ہیں۔ایک ادارہ اگر جماعت کا سینہ ہے تو دوسرا پاؤں ہے۔اسی طرح یہ سب ادارے جماعت کے لئے اعضاء ہیں۔کوئی کان ہے، کوئی ناک، کوئی سر ہے تو کوئی آنکھیں۔غرض یہ ساری چیزیں در حقیقت ایک جسم ہیں جن کے پیچھے ایک میں ہے جو بول رہی ہے اور وہ ” میں احمدیت ہے جو سب اداروں پر چھائی ہوئی ہے۔ان میں سے کسی ادارہ کا نقص احمدیت میں نقص پیدا کرتا ہے اور ان میں سے کسی کا کمال احمدیت کا کمال ہوتا ہے۔پس گو نام جدا جدا ہیں لیکن حقیقت ان کی ایک ہی ہے۔مولوی شیر علی صاحب دو اڑھائی سال کام کرنے کے بعد واپس آئے ہیں۔مولوی صاحب ایسے کام کیلئے باہر بھیجے گئے تھے جو اس وقت جماعت کے لئے بہت ضروری ہے۔اس کام کا مشکل حصہ یعنی ترجمہ کا کام پورا ہو چکا ہے اب دوسرا کام نوٹوں کا ہے جو لکھے جارہے ہیں۔گزشتہ دنوں یورپ میں جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ مولوی صاحب کو واپس بلا لیا جائے تاکہ وہ یہاں آکر کام کریں ایسا نہ ہو کہ جنگ کی صورت میں رستے بند ہو جائیں۔پس دوستوں کی بہترین دعوت تو یہ ہے کہ مولوی صاحب جلد سے جلد اس کام کو ختم کریں تا کہ یہ ایک ہی اعتراض جو مخالفین کی طرف سے جماعت پر کیا جاتا ہے کہ اس جماعت نے ابھی تک ایک بھی قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ شائع نہیں کیا دور ہو جائے اور ہماری انگریزی تفسیر شائع ہو جائے۔درد صاحب ایک لمبے عرصے کے بعد واپس آئے ہیں 1933ء کے شروع میں وہ گئے تھے اور اب 1938 ء کے آخر میں واپس آئے ہیں۔ان دونوں سالوں کا درمیانی فاصلہ پونے چھ سال کا بنتا ہے اور پونے چھ سال کا عرصہ انسانی زندگی میں بہت بڑے تغیرات پیدا کر دیتا ہے۔بعض دفعہ باپ کی عدم موجودگی میں اولاد کی تربیت میں نقص پیدا ہو جاتا