زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 219
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 219 جلد دوم ہے جو تعلقات کو ان لوگوں سے وابستہ کرتی ہے جن کی آمد پر یہ ایڈریس پیش ہوئے ہیں۔مینوں ایڈریس سنتے ہی میرے دل میں خیال آیا کہ ان ایڈریسوں میں ان کی وہی حیثیت بیان کی گئی ہے جو حضرت بابا نانک رحمتہ اللہ علیہ کی ہے۔یعنی ہندو انہیں ہندو کہتے ہیں اور مسلمان مسلمان۔مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ نے ان کو جوڑ تو ڑ کر اپنے اندر شامل کر لیا تو ہے اور تعلیم الاسلام ہائی سکول نے ان کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ یہ سب خوش ہو گئے ہیں اور حقیقت بھی یہ ہے کہ اگر ہم اس حقیقت کو سمجھ لیں اور اس حقیقی روح کو سمجھیں جو احمدیت نے ہم میں پیدا کی ہے تو پھر کسی قسم کی علیحدگی ہم میں نہیں رہتی اور یہ سارے ادارے اور کارخانے ایک ہو جاتے ہیں۔جب کسی شخص کے ہاتھ کو اندھیرے میں کوئی دوسرا شخص چھوٹے اور پوچھے کہ تم کون ہو؟ تو وہ کہے گا میں ہوں۔یا اس شخص کی ٹانگ کو کوئی ہاتھ لگائے اور پوچھے کہ تم کون ہو؟ تو وہ یہی کہے گا کہ میں ہوں۔یا اس شخص کے سر کو کوئی ہاتھ لگائے اور پوچھے کہ میں کسے ہاتھ لگا رہا ہوں؟ تو وہ کہے گا کہ مجھے۔یا اس کی پیٹھ پر ہاتھ لگائے اور پوچھے کہ تم کون ہو؟ تو وہ پھر بھی یہی کہے گا کہ میں ہوں۔گویا ان سب سوالات کے پیچھے ایک ہی جواب ہو گا۔اسی وجہ سے رسول کریم ہے نے فرمایا ہے کہ مومن کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی شخص کے ایک عضو کو تکلیف ہو تو جسم کے باقی اعضاء کو بھی تکلیف ہوتی ہے 2 بے شک رقابت اچھی چیز ہے قرآن مجید نے بھی ہمیں حکم دیا ہے کہ فاستبقوا الخيرات 3 کہ نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔مگر ہر امر میں رقابت کا حکم نہیں صرف خیرات یعنی نیکیوں میں رقابت کا سبق دیا گیا ہے۔گویا خیرات کہہ کر اللہ تعالیٰ نے مسابقت کی ایک نرالی شکل بنا دیا ہے۔ہر وہ مسابقت جو اپنی ذات میں برائی رکھتی ہے اس حکم سے نکل جاتی ہے۔ہر وہ مقابلہ یا مسابقت جس میں حسد ہو یا عداوت ہو وہ فاسْتَبِقُوا الخَیرات میں داخل نہیں کی کیونکہ فاستبقوا الخیرات میں صرف نیکیوں میں مسابقت اور مقابلہ کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔پس تمام وہ مسابقتیں اور وہ مقابلے جن کے نتائج میں حسد، عناد اور بغض پیدا صل الله