زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 218
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 218 جلد دوم احباب جماعت اور اپنی اولاد سے ایک اہم خطاب 11 نومبر 1938ء کو مدرسہ احمدیہ، جامعہ احمدیہ اور تعلیم الاسلام ہائی سکول کے اساتذہ اور طلباء کی طرف سے مدرسہ احمدیہ کے صحن میں حضرت مولوی شیر علی صاحب، حضرت مولوی عبدالرحیم درد صاحب ، حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ، حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کی ولایت سے کامیاب مراجعت پر ان کے اعزاز میں ایک دعوت چائے دی گئی۔اس موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل خطاب فرمایا:۔” سب سے پہلے میں بھی مَنْ لَّمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ الله 1 کے مطابق تینوں اداروں کے اساتذہ وطلباء کا اس تقریب کے پیدا کرنے اور ان جذبات کی وجہ سے جو اس تقریب کے پیدا کرنے کے محرک تھے شکریہ ادا کرتا ہوں اور ان کو وہی تحفہ اسلامی جو ایسے مواقع پر پیش کیا جاتا ہے اور جو بہترین اور مبارک تحفہ ہے پیش کرتا ہوں یعنی جَزَاكُمُ اللهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ تینوں ایڈریس جو اس وقت پیش کئے گئے ہیں وہ گوتین مختلف اداروں کی طرف سے ہیں لیکن تینوں نے اپنے اپنے رنگ میں اتحاد کی صورت پیدا کر لی ہے اور وہ راہ نکال لی