زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 217

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 217 جلد دوم بہت استغفار کرنا چاہئے اور دعائیں کرنا چاہئیں کہ انہوں نے ہمارے قلوب پر جو گندہ اثر چھوڑا ہے خدا تعالیٰ اسے دور کر دے۔اور یاد رکھو کہ تقویٰ اور دیانت داری کے بغیر کوئی ترقی حاصل نہیں ہوتی۔تمہارے ایک افسر نے نہایت گندہ نمونہ پیش کیا ہے اور دیانت داری کے بالکل خلاف عمل کیا ہے۔وہ اور اس کے بیوی بچے سالہا سال تک حرام خوری کرتے رہے۔جب کہ ایک مذہبی مدرسہ سے یہ ظاہر کر کے تنخواہ حاصل کرتے رہے کہ ہمیں کوئی اختلاف نہیں حالانکہ وہ بہت بڑا اختلاف رکھتے تھے۔یہ ماحول ایسا رہا ہے کہ اس سے بچوں کے قلوب پر زنگ لگ سکتا ہے۔اور میں نے دیکھا ہے دینیات کے طالب علم آیات اور احادیث سے مذاق کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔یہ مرض عام طور پر غیر احمدیوں میں پایا جاتا ہے۔مگر میں یہ نہیں کہتا کہ ہمارے مولویوں میں نہیں۔لیکن یہ نہایت سنگدلی اور شقاوت کی علامت ہے اس سے ہمیں بھی بچنا چاہئے۔اب تمام امور میں سنجیدگی اختیار کرنی چاہئے۔اس فتنہ کے متعلق میرا ایک خواب 1935 ء کے الفضل میں شائع ہو چکا ہے۔میں نے دیکھا کہ دو فریق کبڈی کھیلنا چاہتے ہیں جن میں سے ایک کہتا ہے کہ خلافت ہونی چاہئے۔دوسرا کہتا ہے کہ نہیں ہونی چاہئے۔وہ اس شرط پر کبڈی کھیلنے لگے ہیں کہ جو جیت جائے اس کی بات مان لی جائے۔مگر میں نے انہیں کہا کہ دین کے متعلق سنجیدگی ہونی چاہئے اور تمہاری ایسی گفتگو بغیر اجازت کے ناجائز تھی۔یہ خواب چھپا ہوا ہے اور اس میں یہ بھی ذکر ہے کہ اس پر جو خلافت کی تائید میں تھے وہ بھی روٹھ کر چلے گئے کہ ہماری ہتک کی گئی ہے۔اس میں خدا تعالیٰ نے بتایا کہ جو شخص سچائی پر سنجیدگی سے قائم نہ ہو وہ ٹھوکر کھا جاتا ہے۔پس سچائی کو سچائی کی خاطر اختیار کرو۔ہر بات میں سنجیدگی سے کام لو۔اپنے دلوں میں خشیت اللہ پیدا کرو۔“ غیر مطبوعه مواد از ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ) 1 تاریخ ابن اثیر جلد 3 صفحہ 170 مطبوعہ بیروت 2009ء الطبعة الاولى