زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 216

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 216 جلد دوم خیالات سے انہیں اختلاف ہے۔مگر جہاں نماز علیحدہ پڑھنے کا حکم نہ ہو وہاں پتہ نہیں لگ سکتا۔شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کہتے ہیں میں آپ کے پیچھے نماز پڑھ لیتا تھا مگر پھر جا کر دہرا تا تھا۔یہ کتنا بڑا فریب ہے اور کتنا بڑا دھوکا ہے۔ہم نے ان کے سپر د بچوں کو دین سکھانے کا کام کیا ہوا تھا۔اگر کوئی شخص بچوں کو دین سکھانے کے لئے مقرر کیا جائے لیکن وہ اندر ہی اندر عیسائیت کی تعلیم دیتا رہے تو جب پتہ لگے گا سب کہیں گے کہ یہ بڑی بد دیانتی ہے۔ایسا ہی ایک دینی مدرسہ کے ہیڈ ماسٹر ہوتے ہوئے اور خیالات میں اختلاف رکھتے ہوئے دانستہ نادان اور چھوٹے بچوں کو وہ باتیں سکھا نا جن کا ان کے ماں باپ کو علم ہو جاتا تو ایک منٹ کے لئے بھی وہ گوارا نہ کرتے ، اس سے بڑھ کر بد دیانتی اور کیا ہو سکتی ہے۔ہم جن کو احمدیت کی باتیں سکھاتے ہیں یہ کہہ کر سکھاتے ہیں کہ ہم انہیں سکھائیں گے۔جب میں نے تحریک جدید کے ماتحت بچوں کی تعلیم شروع کی تو پٹنہ کی طرف سے ایک چٹھی آئی جس میں لکھا تھا کہ میں بھی اپنا لڑ کا قادیان بھیجنا چاہتا ہوں۔اس کے متعلق میں نے ایک احمدی افسر کو لکھا یا کہ ہم ان کے بچے کو مذہبی تعلیم نہ دیں گے۔لیکن اگر ہماری باتیں اس کے کان میں پڑیں تو آپ ہم سے یہ امید نہیں کر سکتے کہ ہم باتیں بند کر دیں۔اس طرح اگر باتیں سن سن کر اس لڑکے پر اثر ہوا تو پھر آپ ہم سے یہ شکوہ نہ کریں کہ ہم نے اسے احمدی بنا لیا ہے۔اس کا جواب یہ آیا کہ اس کی ذمہ داری آپ پر ہر گز نہ ہوگی اور نہ میں آپ پر الزام دوں گا۔ہماری تو یہ حالت ہے کہ جو شخص احمدیت سے تعلق نہ رکھتا ہو اپنی خوشی سے اپنے بچے کو تعلیم پانے کے لئے ہمارے پاس بھیجتا ہے اسے ہم کہہ دیتے ہیں کہ اگر باتیں سن سن کر اس پر احمدیت کا اثر ہو جائے تو اس کی ذمہ داری ہم پر نہ ہو گی۔مگر اس کے مقابلہ میں ایک شخص ہم سے تنخواہ لیتا ہے اور ہمارے بچوں کو ہمارے عقائد کے خلاف تعلیم دیتا ہے پھر عالم ربانی کہلاتا ہے۔اب وہ طالب علم جو شیخ مصری صاحب سے پڑھتے رہے اور ان کی باتیں سنتے رہے کیا معلوم کہ انہیں کون سی بات یاد رہی اور کیسے خیالات نے ان کے قلوب پر اثر کیا۔اس لئے تم کو