زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 215

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 215 جلد دوم نے علیحدگی اختیار نہ کی۔جماعت نے اپنے بچے دین سیکھنے کے لئے ان کے پاس بھیجے۔خود میں نے اپنے بچے بھیجے۔اگر ان کے ان خیالات کا ہمیں پتہ ہوتا تو میں کیوں ان کے پاس اپنے بچے بھیجتا۔اور بھی کوئی ماں باپ نہ بھیجتے۔ہم نے تو دین سیکھنے کے لئے بھیجے۔اگر کسی استاد کو دینی طور پر ہم سے اختلاف ہے اور پھر بھی وہ نوکری کرتا ہے تو ہر وہ پیسہ جو وہ ہم سے لیتا ہے حرام کا لیتا ہے اور حرام خوری کرتا ہے۔اس بات کا ہمیں غصہ ہے اور اسی کی ہم سزا دے رہے ہیں کیونکہ انہوں نے ہمیں دھوکا دیا ہم سے تنخواہ لے کر ہمیں نقصان پہنچایا۔اسی طرح ڈاکٹر اسماعیل کو سزا دی گئی تھی کیونکہ وہ مخفی طور پر سرکاری افسروں سے ملتا اور ہمیں نقصان پہنچاتا۔اس کے متعلق اس کی اپنی دستی تحریر موجود ہے۔پس ہم ایسوں کو بائیکاٹ کی سزائیں دیتے ہیں کیونکہ بظاہر وہ جماعت سے تعلق رکھتے ہیں مگر خفیہ طور پر جماعت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔وہ ظاہر کچھ کرتے ہیں اور ان کے اندر کچھ اور ہوتا ہے۔شیخ عبد الرحمن صاحب مصری کو جب اختلاف پیدا ہوا تھا تو ان کا فرض تھا کہ ہمیں اطلاع دیتے کہ تم نے مجھے بچوں کو دینی تعلیم دینے کے لئے مقرر کیا ہوا ہے اب مجھے یہ یہ اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔اگر اس اختلاف کے باوجود مجھے رکھنا چاہتے ہیں تو رکھیں میں یہی کچھ سکھاؤں گا اور اگر نہیں رکھنا چاہتے تو جواب دے دیں۔مگر انہوں نے ایسانہ کہا اور اختلافات رکھنے کے باوجود بچوں کو تعلیم دیتے رہے۔کیا یہ دیانت داری ہے؟ اگر دیانت داری ہے تو کیا وہ تیار ہیں کہ اپنے چھوٹے بچے ہمارے سپرد کر دیں؟ وہ تو تنخواہ لے کر بچوں کو پڑھاتے رہے ہم ان کے بچوں کا خرچ بھی خود دیں گے۔لیکن اگر وہ اس کے لئے تیار نہیں تو انہوں نے اپنے فعل سے اپنی بددیانتی پر مہر کر دی۔بھیٹر بن کر بھیڑیے والا کام کرتے رہے۔اس بات کے ہوتے ہوئے کون کہ سکتا ہے کہ وہ عالم ربانی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دوسرے مسلمانوں سے نمازیں الگ کر کے تفرقہ ڈال دیا۔مگر یہ دیانت داری اور ایمانداری کا تقاضا تھا تا کہ کوئی احمدی جہاں جائے وہاں کے لوگوں کو پتہ لگ جائے کہ یہ احمدی ہے اور اس طرح ان کو معلوم ہو جائے کہ اس کے