زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 211
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 211 جلد دوم مدرسہ احمدیہ کو نہایت ضروری نصیحت 13 جولائی 1937ء کو اساتذہ اور طلباء مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کی طرف سے محترم مولوی عبد الرحمن صاحب مولوی فاضل کے اعزاز میں جو دعوت دی گئی اس میں حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے بھی شرکت فرمائی۔اس موقع پر حضور نیتشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد جو تقریر فرمائی اور ابھی تک غیر مطبوعہ تھی وہ حسب ذیل ہے:۔" آج جو پارٹی دی گئی ہے وہ ہماری شاخ دینیات کے طلباء کی طرف سے ہے اور میں سمجھتا ہوں چونکہ ان ایام کا سب سے اہم مبحث مدرسہ احمدیہ کے ہیڈ ماسٹر کا خروج ہے اور چونکہ قدرتی طور پر طلباء کے قلوب پر اس کا خاص اثر ہونا چاہئے اور ہو گا خواہ موافق ہو یا مخالف ، اس لئے اس وقت میں طلباء کو مخاطب کرتا ہوں۔یہ قدرتی امر ہے جب کوئی کی شخص کسی محکمہ سے متعلق ہوتا ہے تو اس کے اچھے یا برے فعل کو اس محکمہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور قدرتی طور پر لوگوں کی نگاہیں اس کی طرف اٹھتی ہیں۔خیالات اس کی طرف منتقل ہوتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ فلاں محکمہ سے یا فلاں مدرسہ سے تعلق رکھنے والے کی یہ حالت ہوئی اور اس کے نتیجہ میں نیک یا برا اثر پڑتا ہے۔اگر نیک بات ہوئی تو نیک اثر ہوگا اور اگر بری بات ہوئی تو برا اثر ہوگا۔اس مدرسہ کے طلباء کے لئے یہ بات جو واقعہ ہوئی ہے کسی صورت میں بھی ہوا ہم ہے۔خواہ اس لحاظ سے کہ شیخ عبد الرحمن مصری کو اتنا لمبا عرصہ مدرسہ احمدیہ میں کام کرنے کا ملا خواہ اس لحاظ سے کہ انہوں نے کیسے اثرات طلباء کے قلوب پر چھوڑے۔بعض اثرات ایسے باریک ہوتے ہیں کہ ہو سکتا ہے آج طلباء ان کو محسوس نہ کریں اور پھر کسی