زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 207
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 207 جلد دوم تمہیں صرف ایک چیز کی دھن ہو اور وہ یہ کہ قرآن کریم کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانا ہے۔اس راستے میں تمہارے لئے کوئی مشکل مشکل نہ رہے اور کوئی مصیبت مصیبت نہ رہے۔تم تمام تکالیف اور تمام مشکلات پر حقارت سے مسکرا دو۔کیونکہ مومن کی نظر ان تمام چیزوں سے بالا تر ہوتی ہے۔تمہارے دعوے محض زبان تک محدود نہ ہوں بلکہ تمہارے دلوں میں اسلام کی محبت جاگزیں ہو۔تمہارے لئے کوئی تکلیف تکلیف نہ رہے اور تمام آگیں تمہارے لئے ٹھنڈی ہو جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک دفعہ ایک نہایت سنگین مقدمہ میں مبتلا کیا گیا۔یہ مقدمہ مشہور مارٹن کلارک عیسائی پادری کی طرف سے قتل کا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عادت تھی کہ اس قسم کے واقعات میں بچوں کو بھی دعا کے لئے فرما دیا کرتے تھے مجھ سے بھی کہا کہ دعا کرو۔میں نے دعا کی اور انہی ایام میں ایک رؤیا دیکھا۔ہمارے گھر میں ایک تہہ خانہ تھا جس کی تنگ سی سیڑھیاں تھیں۔میں نے رویا میں دیکھا کہ میں باہر سے آ رہا ہوں۔جب میں گھر کے پاس آیا تو میں نے دیکھا کہ ہمارے گھر کے سامنے چند پولیس والے کھڑے ہیں اور مجھے اندر جانے سے روکتے ہیں۔میں نے باہر سے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اندر بیٹھے ہیں اور پولیس کے آدمی آپ کے ارد گرد اوپلوں کا ڈھیر لگا رہے ہیں اور وہ ڈھیر اس قدر اونچا ہو گیا ہے کہ حضور اس کے پیچھے اوجھل ہو گئے ہیں۔پھر وہ اس ڈھیر کو دیا سلائی سے آگ لگانا چاہتے ہیں لیکن میں چاہتا ہوں کہ آگ کو بجھاؤں۔ایک سپاہی نے دیا سلائی جلائی مگر وہ جلی نہیں۔اس نے پھر جلائی لیکن پھر بھی نہیں جلی۔پھر جلائی پھر بھی نہیں جلی۔غرض وہ یہ کوشش کر رہے ہیں کہ آگ لگا ئیں اور میں اس کوشش میں ہوں کہ بجھاؤں۔اس کے بعد یکدم میری نظر ایک فقرہ پر پڑی جو یہ تھا خدا کے پیاروں کو کون جلا سکتا ہے۔مجھے اب یاد نہیں رہا کہ پیاروں تھا یا ماموروں۔بہر حال ان میں سے ایک لفظ تھا۔جونہی یہ فقرہ میں نے پڑھا اُسی وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام باہر نکل آئے اور میری آنکھ کھل گئی۔