زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 192
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 192 جلد دوم مشہور ڈاکو کسی آدمی کو مار رہا ہے ، فرض کرو جسے مارا جا رہا ہے وہ تمہارا بھائی ہے یا کوئی اور رشتہ دار تم چھوٹے سے بچے ہو آٹھ یا دس سال تمہاری عمر ہے اور وہ مضبوط اور علاقہ میں مشہور ڈاکو ہے جب تم دیکھتے ہو کہ وہ تمہارے کسی عزیز پر حملہ آور ہے تو تم جوشِ محبت میں اس پر حملہ کر دیتے ہو اور تمہارے چھوٹے سے بازوؤں میں اُس وقت ایسی طاقت آجاتی ہے کہ تم اس ڈاکو کو مار لیتے ہو۔تو غور کرو اُس وقت تمہارے دل میں کتنا فخر پیدا ہو گا اور تم کس طرح لوگوں کو جگا جگا کر یہ نہ بتاؤ گے کہ فلاں ڈاکو کو آج ہم نے مار دیا۔پھر تم سوچو کہ اگر ایک ڈاکو کے مارٹے پر تم اس قدر فخر کر سکتے ہو تو اُن لاکھوں ڈاکوؤں کے مارنے پر جو اسلام کی متاع پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں، اُن فلسفیوں کی فلسفیت کو کچلنے پر، ان اباحت والوں کی اباحت اور اُن مداہنت والوں کی مداہنت کو صفحۂ عالم سے نابود کرنے پر جو اسلام ایسے قیمتی عزیز کے کمزور جسم کو دبا رہے اور اُس کے گلے کو گھونٹ رہے ہیں تمہارے دل میں کس قدر فخر پیدا ہو گا اور کس خوشی اور سرور سے تم اپنی گردن اونچی کر کے کہو گے کہ آج ہم نے شرک اور کفر کو نابود کر دیا۔یہ چیز ہے جس کو اپنے سامنے رکھنا تمہارا فرض ہے۔تم پور ڈار نہیں بلکہ تم خدا تعالی کے سپاہی ہوا اور تمہیں اس لئے تیار کیا جا رہا ہے کہ تم خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جانیں دو۔اگر تم سلسلہ اور اسلام کیلئے اور خلافت اور نظام سلسلہ کیلئے اپنی جانیں نہ دو گے تو تم بھی محض باتیں کرنے والے ٹھہرو گے۔پس تم اسلام کیلئے اپنی جانیں قربان کرنے والے بنو اور منافقوں کی ہاں میں ہاں مت ملاؤ بلکہ انہیں کچلنے والے بنو۔خواہ منافقانہ بات تمہارے باپ کے منہ سے نکلے یا تمہارے بھائی یا کسی اور عزیز کے منہ سے۔صحابہ کے زمانہ میں ہمیں اس قسم کا نظارہ نظر آتا ہے۔مدینہ میں ایک منافق نے جب یہ بات کہی کہ مہاجرین نے یہاں آ کر فتنہ و فساد مچا دیا ہے تو اُس شخص کا لڑکا رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے عرض کیا مجھے یہ بات سننے میں آئی ہے کہ میرے باپ نے کوئی ایسی بات کہی ہے جس سے آپ کو تکلیف ہوئی ہے۔