زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 188

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 188 جلد دوم کے منتظر ہیں اور انہوں نے نہیں سمجھا کہ قدرت ثانیہ تو آ چکی۔اور قدرت ثانیہ کسی ایک چیز کا نام نہیں بلکہ وہ ہمیشہ آیا کرتی ہے۔کیا خدا تعالیٰ کا سورج ایک دفعہ چڑھتا ہے اور پھر نہیں چڑھتا ؟ پھر کیسا نادان ہے وہ شخص جو یہ کہے کہ میں ابھی سورج کے چڑھنے کا منتظر ہوں۔جب تک کل والا سورج نہیں چڑھے گا میں آج کے سورج کے وجود کو تسلیم نہیں کر سکتا۔کیا جس چیز کیلئے انتظار کا لفظ استعمال کیا جائے وہ دوبارہ نہیں آیا کرتی ؟ قرآن کریم ہمیشہ بتاتا ہے کہ کوئی چیز دائمی نہیں، خدائی سلسلہ اور روحانیت بھی دائمی نہیں ہوتی۔خدا تعالٰی کا نام قابض اور باسط ہے۔پس قبض کا آنا بھی ضروری ہے اور بسط کا آنا بھی ضروری ہے جیسا کہ رات کا آنا بھی ضروری ہے اور دن کا آنا بھی ضروری ہے۔اگر سورج نے ایک ہی دفعہ چڑھنا ہوتا تو پھر ہمیشہ کیلئے تاریکی ہو جاتی لیکن خدا تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا بلکہ وہ بار بار سورج چڑھاتا ہے۔مگر وہ شخص جو سورج کی موجودگی میں کسی اور سورج کا انتظار کرتا ہے وہ بیوقوف ہے۔اسی طرح وہ شخص جو اس وقت قدرت ثانیہ کا انتظار کرتا ہے وہ کی احمق اور گدھا ہے۔قدرت ثانیہ آئی اور اس کا ظہور ہوا مگر افسوس کئی لوگ ہیں جنہوں نے اس کو شناخت نہیں کیا۔میں دنیا کے ہر مقدس سے مقدس مقام پر کھڑے ہو کر خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر یہ کہہ سکتا ہوں کہ قدرت ثانیہ کا جو ظہور ہونا تھا وہ ہو چکا اور وہی ذریعہ ہے آج احمدیت کی ترقی کا۔میں بتا چکا ہوں کہ اس اسکیم میں بعض چیزیں عارضی ہیں۔پس عارضی چیزوں کو میں بھی مستقل قرار نہیں دیتا لیکن باقی تمام اسکیم مستقل حیثیت رکھتی ہے کیونکہ وہ محض اللہ تعالیٰ کے القاء کے نتیجہ میں مجھے سمجھائی گئی ہے۔میں نے اسکیم کو تیار کرنے میں ہر گز غور اور فکر سے کام نہیں لیا اور نہ گھنٹوں میں نے اس کو سوچا ہے۔خدا تعالیٰ نے میرے دل میں یہ تحریک پیدا کی کہ میں اس کے متعلق خطبات کہوں۔پھر ان خطبوں میں میں نے جو کچھ کہا وہ میں نے نہیں کہا بلکہ اللہ تعالیٰ نے میری زبان پر جاری کیا کیونکہ ایک منٹ بھی میں نے یہ نہیں سوچا کہ میں کیا کہوں۔اللہ تعالیٰ میری زبان پر خود بخود اس اسکیم کو جاری کرتا گیا اور