زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 13

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 13 جلد دوم فرماتے ہیں لوگ کہتے ہیں میں نام و نمود کے لئے کوشش کر رہا ہوں۔خدا کی قسم ! میں تو گوشئہ خلوت سے نہیں نکلنا چاہتا تھا مگر خدا نے مجھے نکالا۔3 پس یہ تو ممکن ہے کوئی نیک نہ ہو اور اپنے آپ کو نیک ظاہر کرے لیکن یہ ممکن نہیں کہ نیک ہو اور وہ پوشیدہ رہ سکے۔چاہے دنیا اسے پوشیدہ رکھنے کے لئے کتنا زور لگائے اور خواہ وہ خود بھی پوشیدہ رہنے کی کوشش کرے۔میں یہ نہیں کہتا کہ تکلف سے روحانیت کا اظہار کرو بلکہ یہ کہتا ہوں کہ حقیقت میں روحانیت حاصل کرو۔تا کہ تمہاری آنکھ، تمہارے ناک ، تمہارے کان اور تمہاری آواز سے روحانیت ظاہر ہو۔پھر اگر تم اسے چھپانا بھی چاہو گے تو نہ چھپ سکے گی۔پس سب سے مقدم چیز یہی ہے کہ روحانیت پیدا کرو۔خشیت اللہ پیدا کر و۔تقویٰ پیدا کرو۔مگر لفظوں میں اس کا اظہار نہ ہو کہ ہم خدا کے لئے کام کرتے ہیں بلکہ قلبی کیفیات سے اس کا اظہار ہو۔اس روحانیت حاصل کرنے کا طریق یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب پڑھی جائیں۔ان کے اندر جو روحانیت ہے اس پر غور کیا جائے۔عام طور پر علماء جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب پڑھتے ہیں تو ان کی نظر دلائل تک ہی محدود رہتی ہے کیونکہ بحث و مباحثہ کے لئے انہیں انہی کی ضرورت پڑتی ہے۔مگر اس ضرورت سے علیحدہ ہو کر اپنے طور پر بھی قرآن کریم اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مطالعہ کرنا چاہئے۔قرآن کریم کی تلاوت کرتے وقت اور حضرت مسیح موعود کی کتب پڑھتے وقت انہیں اپنے پیشہ کے ماتحت نہیں بنانا چاہئے بلکہ یہ سمجھنا چاہئے اس وقت دنیا مخاطب نہیں بلکہ میرا اپنا نفس مخاطب ہے۔مجھے جس چیز کی ضرورت ہے وہ روحانی ترقی ہے اس لحاظ سے مجھے قرآن کریم اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پڑھنی چاہئیں۔اس وقت مجھے یہ نہیں دیکھنا چاہئے حضرت مسیح کی وفات کے کیا دلائل ہیں۔یہ باتیں میں نے سیکھ لی ہیں۔اس وقت میں اس لئے پڑھتا ہوں کہ مجھے کیا بننا چاہئے۔کیونکہ سب سے مقدم سوال ہر ایک انسان کے لئے یہی ہے۔لیکن مناظرہ کرنے والوں کو چونکہ یہ عادت پڑ جاتی ہے کہ جب وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی